AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Monday, 13 July 2026 Monday, 28 Muarram 1448 AH
Hadith of the Day: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ "Allah looks at hearts and deeds, not appearances." — Muslim
Miscellaneous | Jul 12, 2026 | 1 min read

Question

'Tamlik-Aaraa' تملک آراء نام رکھنا کیسا ہے بیٹی کے نام کے لیے سوال ہے

Islamic Ruling & Answer

Verified

"تملک آراء" (تملُّک آراء) بیٹی کے لیے مناسب نام نہیں ہے۔

وجہ یہ ہے کہ "تملک" کا معنی ہے مالک بننا، قبضہ کرنا یا کسی چیز پر اختیار حاصل کرنا، اور "آراء"، "رأی" کی جمع ہے، جس کا مطلب آراء، خیالات یا نظریات ہے۔ اس طرح اس ترکیب کا واضح، معروف اور خوبصورت نام والا مفہوم نہیں بنتا، بلکہ "آراء پر قبضہ" یا "خیالات کی ملکیت" جیسا مفہوم پیدا ہوتا ہے، جو نام رکھنے کے لیے موزوں نہیں۔

اسلام میں بچوں کے ایسے نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے جن کے معانی اچھے، واضح اور خوشگوار ہوں، کیونکہ نام انسان کی شناخت ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے برے یا نامناسب معنی رکھنے والے بعض نام تبدیل بھی فرمائے۔

لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بچی کا ایسا نام رکھا جائے جس کا معنی اچھا، معروف اور اسلامی ذوق کے مطابق ہو۔

مثلاً:

مریم

فاطمہ

عائشہ

خدیجہ

حفصہ

زینب

رقیہ

اسماء

صفیہ

سمیہ

آمنہ

ہاجرہ

مروہ

بشریٰ

سعدیہ

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 12, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute