If a Husband Says "I Set You Free" Without Intending Divorce, Does Talaq Occur?
Question
جنابِ محترم! یہ بتا دیں کہ اگر سائل اپنی بیوی کو صرف ڈرانے کی نیت سے طلاق کے مذاکرے میں کنایہ الفاظ استعمال کرے، جیسے: "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" یا "تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں رہا"، اور پھر کہے: "تم مانگ رہی تھی تو میں نے تمہیں دے دی ہے"، تو کیا اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگی یا طلاقِ بائن؟ جبکہ یہاں طلاق کی نیت نہیں تھی۔ نیز اگر اس صورت میں خلوَتِ صحیحہ ہوئی ہو مگر رخصتی نہ ہوئی ہو، تو عدت اور رجوع کا کیا حکم ہوگا؟ شکریہ۔
Islamic Ruling & Answer
آپ کے پوچھے گئے الفاظ ("میں تمہیں آزاد کرتا ہوں"، "تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں رہا") طلاق کے مذاکرے (بحث) کے دوران کہے گئے ہوں تو ان کا حکم درج ذیل ہے
طلاق کا وقوع: مذاکرۂ طلاق میں کنایہ الفاظ کہنے سے طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، چاہے طلاق کی نیت نہ بھی ہو ۔
رجوع کا حکم: طلاقِ بائن میں عدت کے دوران رجوع نہیں ہو سکتا۔ اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح (نیا نکاح) کرنا ضروری ہے ۔
عدت: خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہے، لہذا بیوی پر عدت (تین حیض یا وضعِ حمل تک) گزارنا لازم ہے ۔
طلاق کا معاملہ بہت حساس ہے، لہذا اپنے الفاظ کی تفصیل کے ساتھ قریبی دارالافتاء سے ضرور رجوع کریں تاکہ حتمی اور تسلی بخش رہنمائی حاصل ہو سکے ۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
April 25, 2026 · Updated July 04, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Reconciliation after two divorces
Ruling on temporary false eyelashes
Is nikah valid without witnesses?
Hajj with a fiancé before nikah
Fiance compliments before nikah
Muslim woman marrying a catholic man
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now