AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Sunday, 26 April 2026 Al Ahad, 9 Dhū al-Qaʿdah 1447 AH
Hadith of the Day: أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ "The best prayer after obligatory ones is night prayer." — Muslim
Social Matters | Apr 25, 2026 | 1 min read

الفاظِ کنایہ سے طلاق کا حکم

Question

جنابِ محترم! یہ بتا دیں کہ اگر سائل اپنی بیوی کو صرف ڈرانے کی نیت سے طلاق کے مذاکرے میں کنایہ الفاظ استعمال کرے، جیسے: "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" یا "تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں رہا"، اور پھر کہے: "تم مانگ رہی تھی تو میں نے تمہیں دے دی ہے"، تو کیا اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگی یا طلاقِ بائن؟ جبکہ یہاں طلاق کی نیت نہیں تھی۔ نیز اگر اس صورت میں خلوَتِ صحیحہ ہوئی ہو مگر رخصتی نہ ہوئی ہو، تو عدت اور رجوع کا کیا حکم ہوگا؟ شکریہ۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

آپ کے پوچھے گئے الفاظ ("میں تمہیں آزاد کرتا ہوں"، "تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں رہا") طلاق کے مذاکرے (بحث) کے دوران کہے گئے ہوں تو ان کا حکم درج ذیل ہے

طلاق کا وقوع: مذاکرۂ طلاق میں کنایہ الفاظ کہنے سے طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، چاہے طلاق کی نیت نہ بھی ہو ۔

رجوع کا حکم: طلاقِ بائن میں عدت کے دوران رجوع نہیں ہو سکتا۔ اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح (نیا نکاح) کرنا ضروری ہے ۔

عدت: خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہے، لہذا بیوی پر عدت (تین حیض یا وضعِ حمل تک) گزارنا لازم ہے ۔

 طلاق کا معاملہ بہت حساس ہے، لہذا اپنے الفاظ کی تفصیل کے ساتھ قریبی دارالافتاء سے ضرور رجوع کریں تاکہ حتمی اور تسلی بخش رہنمائی حاصل ہو سکے ۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 25, 2026