AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Sunday, 31 May 2026 Al Ahad, 14 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ "The one who guides to good is like the doer." — Tirmidhi (Ṣaḥīḥ)
Social Matters | May 31, 2026 | 1 min read

الفاظِ کنایہ سے طلاق کا حکم

Question

سوال: میری بیوی چاند رات کو سیلون گئی تھی۔ میں اسے جلدی گھر بھیجنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اگر تم 8 بجے سے پہلے سیلون سے نہ نکلی تو ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ اس نے کہا کہ گھر میں پیغام کر دیا ہے، کوئی آ جائے گا تو چلی جاؤں گی۔ میں نے کہا: "8 بجے خود ہی ڈائیورس ہو جانی۔" میری نیت صرف جلدی کروانے کی تھی، طلاق دینے کی نہیں تھی۔ اس صورت میں کیا ہمارا رشتہ باقی ہے؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر آپ نے واقعی یہی الفاظ کہے تھے: "8 بجے خود ہی ڈائیورس ہو جانی" اور آپ کی نیت طلاق دینا نہیں بلکہ صرف بیوی کو جلدی گھر آنے پر آمادہ کرنا تھی، تو بظاہر یہ الفاظ صریح طلاق کے نہیں بلکہ کنایہ کے درجے میں آتے ہیں، اور کنایہ میں نیت معتبر ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح برقرار ہے۔

البتہ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے اپنی پوری تفصیل سنا کر حتمی فتویٰ ضرور لیں، کیونکہ واقعات کی جزئیات سے بھی فتویٰ متاثر ہو سکتا ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

May 31, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute