اگر شوہر کہے: "8 بجے خود ہی ڈائیورس ہو جانی" تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟
Question
سوال: میری بیوی چاند رات کو سیلون گئی تھی۔ میں اسے جلدی گھر بھیجنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اگر تم 8 بجے سے پہلے سیلون سے نہ نکلی تو ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ اس نے کہا کہ گھر میں پیغام کر دیا ہے، کوئی آ جائے گا تو چلی جاؤں گی۔ میں نے کہا: "8 بجے خود ہی ڈائیورس ہو جانی۔" میری نیت صرف جلدی کروانے کی تھی، طلاق دینے کی نہیں تھی۔ اس صورت میں کیا ہمارا رشتہ باقی ہے؟
Islamic Ruling & Answer
اگر آپ نے واقعی یہی الفاظ کہے تھے: "8 بجے خود ہی ڈائیورس ہو جانی" اور آپ کی نیت طلاق دینا نہیں بلکہ صرف بیوی کو جلدی گھر آنے پر آمادہ کرنا تھی، تو بظاہر یہ الفاظ صریح طلاق کے نہیں بلکہ کنایہ کے درجے میں آتے ہیں، اور کنایہ میں نیت معتبر ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح برقرار ہے۔
البتہ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے اپنی پوری تفصیل سنا کر حتمی فتویٰ ضرور لیں، کیونکہ واقعات کی جزئیات سے بھی فتویٰ متاثر ہو سکتا ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 31, 2026 · Updated June 26, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Islamic rulling on online marriage
زواج المسلمة بالمسيحي
ویڈیو ایڈیٹنگ میں جائز اور ناجائز آوازوں کا حکم
Social media and Islamic rulling
هل يصبح الزواج واجبًا على مدمن العادة السرية إذا كان قادرًا عليه؟
حكمُ رضعتين قبل الحولين
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now