AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Sunday, 05 July 2026 Sunday, 19 Muharram 1448 AH
Hadith of the Day: إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ "Allah is beautiful and loves beauty." — Muslim
Social Matters | Jul 05, 2026 | 1 min read

Question

السلام و علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ عدت ختم ہونے کے بعد عورت کو کیا کرنا چاہئے ؟ کیا کوئی خاص عمل کرنا مخصوص ہے جس دن عدت ختم ہو جائے ؟ ختم پڑھنا یا پڑھانا جیسے کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں؟ قرآن و حدیث اور شریعت کے مطابق کیا احکامات ہیں؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

عدت مکمل ہونے کے بعد شریعت نے کسی خاص رسم، ختم، اجتماعی دعا، قرآن خوانی یا مخصوص عمل کو لازم یا مسنون قرار نہیں دیا۔ اس لیے جس دن عدت ختم ہو، اس دن کوئی خاص مذہبی تقریب منعقد کرنا یا اسے دین کا حصہ سمجھنا درست نہیں۔

قرآنِ کریم میں عدت ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾

"پھر جب وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو وہ اپنے بارے میں شریعت کے مطابق جو مناسب فیصلہ کریں، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔" (سورۃ البقرۃ: 234)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت ختم ہونے کے بعد عورت پر عدت کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، مثلاً:

اب وہ زینت اختیار کر سکتی ہے۔

اگر بیوہ ہے تو نکاح کا پیغام قبول کر سکتی ہے اور شرعی طریقے سے نکاح کر سکتی ہے۔

معمول کی زندگی دوبارہ اختیار کر سکتی ہے۔

لیکن قرآن و حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا کہ عدت ختم ہونے کے دن:

ختمِ قرآن کرایا جائے،

خاص کھانا کھلایا جائے،

مجلس منعقد کی جائے،

یا کوئی مخصوص عبادت لازم سمجھی جائے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص محض ثواب کی نیت سے کبھی قرآن پڑھے یا دعا کرے تو یہ الگ بات ہے، لیکن عدت ختم ہونے کے ساتھ اس کو مخصوص کرنا یا اسے شرعی رسم سمجھنا ثابت نہیں۔

البتہ عدت مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، اپنے لیے دعا کرنا، اور آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ اختیار کرنے کا عزم کرنا یقیناً مستحسن عمل ہے، مگر یہ بھی کسی خاص دن یا مخصوص طریقے کے ساتھ لازم نہیں۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 05, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute