Question
**السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ** مجھے شیطانی وسوسوں اور نفس کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ بعض اوقات انسان کے دل میں برے خیالات، گناہ کے وسوسے یا برائی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے، حالانکہ وہ ان پر عمل نہیں کرنا چاہتا اور ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ: 1. شیطانی وسوسے، نفس کی خواہش اور انسان کے اپنے ارادے میں شرعاً کیا فرق ہے؟ 2. اگر دل میں بار بار برے خیالات آئیں یا گناہ کی طرف میلان محسوس ہو، لیکن انسان ان پر عمل نہ کرے بلکہ انہیں رد کرے، تو کیا اس پر گناہ ہوگا؟ 3. ایسے وسوسوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں کون سی دعائیں، اذکار اور عملی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟ 4. اگر کسی شخص کو یہ خوف رہتا ہو کہ کہیں یہ خیالات اس کے ایمان یا توبہ کی قبولیت پر اثر انداز نہ ہوں، تو شریعت اس بارے میں کیا رہنمائی دیتی ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اسلام انسان کی فطرت کو خوب جانتا ہے۔ دل میں آنے والے وسوسے، نفس کی خواہشات اور انسان کا اپنا ارادہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ شریعت نے ان کے درمیان واضح فرق کیا ہے، اسی لیے محض دل میں خیال آ جانے پر انسان گناہ گار نہیں ہوتا، بلکہ اصل مؤاخذہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے اختیار سے گناہ کا ارادہ کرے یا اس پر عمل کرے۔
1. شیطانی وسوسے، نفس کی خواہش اور انسان کے اپنے ارادے میں کیا فرق ہے؟
(الف) شیطانی وسوسہ: شیطان انسان کے دل میں برے خیالات ڈالتا ہے، گناہ کو خوش نما بنا کر پیش کرتا ہے اور برائی پر ابھارتا ہے، لیکن اسے مجبور نہیں کر سکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ﴾
"وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔" (سورۃ الناس: 4-5)
اور قیامت کے دن شیطان خود کہے گا:
﴿وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي﴾
"میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا، میں نے صرف تمہیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی۔" (سورۃ ابراہیم: 22)
یعنی شیطان صرف دعوت دیتا ہے، مجبور نہیں کرتا۔
(ب) نفس کی خواہش: نفس انسان کے اندر موجود وہ میلان ہے جو کبھی اچھائی کی طرف اور کبھی برائی کی طرف رغبت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کی اصلاح نہ کی جائے تو وہ گناہوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي﴾
"بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دیتا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔" (سورۃ یوسف: 53)
(ج) انسان کا اپنا ارادہ: یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنے اختیار سے کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسی ارادے اور عمل پر شریعت میں ثواب یا گناہ مرتب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾
"اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔" (سورۃ الکہف: 29)
2. اگر برے خیالات آئیں لیکن انسان ان پر عمل نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا؟
ہرگز نہیں۔
اگر خیالات خود بخود آئیں، انسان انہیں ناپسند کرے، ان سے پریشان ہو اور ان پر عمل نہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ.”
"اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں آنے والے خیالات کو معاف کر دیا ہے، جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان سے نہ کہیں۔" (صحیح البخاری: 5269، صحیح مسلم: 127)
ایک اور موقع پر صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں بیان کرنا بھی بہت بڑا گناہ محسوس ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟ ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ.”
"کیا واقعی تمہیں ایسے خیالات آتے ہیں؟ یہی تو کھلا ایمان ہے۔" (صحیح مسلم: 132)
یعنی ان وسوسوں سے نفرت کرنا اور ان پر پریشان ہونا ایمان کی علامت ہے، نہ کہ کفر کی۔
3. وسوسوں سے نجات کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات
(الف) اللہ کی پناہ مانگیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
"اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو، بے شک وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔" (سورۃ الأعراف: 200)
کثرت سے پڑھیں:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(ب) سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کی پابندی کریں
رسول اللہ ﷺ صبح و شام اور سونے سے پہلے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاری: 5017)
(ج) آیت الکرسی پڑھیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رات کو آیت الکرسی پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔
(صحیح البخاری: 2311)
(د) ذکرِ الٰہی کی کثرت کریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد: 28)
(ہ) جب ایمان سے متعلق وسوسے آئیں تو یہ دعا پڑھیں:
آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
رسول اللہ ﷺ نے ایسے وسوسوں کے وقت یہی تعلیم فرمائی۔
(صحیح مسلم: 134)
اور فرمایا:
“فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ.”
"اللہ کی پناہ مانگے اور ان خیالات کو فوراً چھوڑ دے۔" (صحیح البخاری: 3276، صحیح مسلم: 134)
یعنی ان وسوسوں میں بحث نہ کرے، نہ انہیں کریدے، بلکہ نظر انداز کر دے۔
4. اگر کسی کو ڈر ہو کہ یہ خیالات اس کے ایمان یا توبہ پر اثر انداز نہ ہو جائیں تو شریعت کیا کہتی ہے؟
شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ محض وسوسے، غیر اختیاری خیالات یا دل میں آنے والے برے تصورات انسان کو نہ کافر بناتے ہیں، نہ اس کی توبہ کو باطل کرتے ہیں، جب تک وہ انہیں دل سے قبول نہ کرے، ان پر راضی نہ ہو یا اپنے اختیار سے ان کا اظہار یا عمل نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
"اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔" (سورۃ البقرۃ: 286)
اور اسی سورت کے آخر میں دعا ہے:
﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے جواب میں فرمایا:
"میں نے ایسا ہی کر دیا۔" (صحیح مسلم: 126)
لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کر چکا ہو، اپنے ایمان کی حفاظت کی کوشش کرتا ہو، وسوسوں سے نفرت کرتا ہو اور ان پر عمل نہ کرتا ہو، اسے اپنی توبہ اور ایمان کے بارے میں بلاوجہ خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اسے اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾
"بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔" (سورۃ الزمر: 53)
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
July 12, 2026
Related Questions
Signs of Riya and Nifaq
Listening to the Qur'an in public
Avoiding baseless suspicion
Did Umar (RA) pressure the Prophet ﷺ?
Is It Haram to Wear an Evil Eye Necklace if I Don't Believe in It?
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now