AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Thursday, 23 April 2026 Al Khamees, 6 Dhū al-Qaʿdah 1447 AH
Hadith of the Day: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ "Allah looks at hearts and deeds, not appearances." — Muslim
Transactions & Dealings | Apr 23, 2026 | 1 min read

اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی کا شرعی حکم

Question

میں نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے ایک پالیسی خریدی ہے جس کا مقصد میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں اور مختلف برائیوں سے بچھ جائیں اور ملک کے خزانے پربھی بوجھ نہ بنیں اور اس پالیسی سے ملنے والی جمع شدہ اور ساتھ اضافی رقم سے اپنی زندگی بغیر کسی کے محتاجی کے گزار سکیں، اور اگر میں پالیسی خریدنے کے بعد بیس سال تک زندہ رہوں اور میری جمع شدہ رقم کے ساتھ مجھے چار سے پانچ گنا زیادہ منافع مل جا تا ہے تو کیا یہ سود میں شامل ہوگا کیونکہ میں ہر سال اپنی آمدنی سے مخصوص رقم اسیٹیٹ لائف کو دے رہا ہوں جو اس رقم کو مختلف پروجیکٹس میں استعمال کررہی ہے اور بیس سالوں میں پیسے کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے تو کیا میجورٹی کی صورت میں یہ رقم سود میں آئے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا اسلامی نظام موجود نہیں کہ وہ بےروگار بزرگ ، یتیم بچوں اور بیوائوں کو باعزت طریقے سے زندگی گزارنے کیلئے ماہانہ وظیفہ دیں

Islamic Ruling & Answer

Verified

آپ نے جو اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی لی ہے، اس کا مقصد بلاشبہ اچھا اور قابلِ قدر ہے کہ آپ کے بعد آپ کے گھر والے کسی کے محتاج نہ ہوں اور باعزت زندگی گزار سکیں۔ لیکن شریعت کی روشنی میں جب اس معاملے کو دیکھا جاتا ہے تو اہلِ علم کی اکثریت کا موقف یہ ہے کہ موجودہ لائف انشورنس سسٹم میں سود اور غرر (غیر یقینی معاملہ) دونوں پائے جاتے ہیں، اس لیے ایسے معاہدے کو جائز قرار نہیں دیا جاتا۔

آپ کی صورت میں جو رقم آپ ہر سال جمع کروا رہے ہیں، اور پھر مدت کے بعد اس پر 4 سے 5 گنا اضافہ ملتا ہے، تو اگر یہ اضافہ ایک طے شدہ تناسب یا گارنٹیڈ منافع کی شکل میں ہے، تو فقہی اصولوں کے مطابق اسے سودی منافع شمار کیا جاتا ہے، چاہے کمپنی اس رقم کو مختلف پروجیکٹس میں ہی کیوں نہ لگا رہی ہو۔ اسی لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس اضافی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں نہ لایا جائے۔

عملی طور پر آپ کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ اگر آسانی ہو تو ایسی پالیسی کو ختم کر دیں اور آئندہ اس سے بچیں، اور اگر فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ کریں کہ جو اصل رقم آپ نے جمع کروائی ہے، وہ آپ کے لیے جائز ہے، البتہ اس سے زائد جو منافع یا بونس ملے، اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیں، تاکہ آپ کا مال پاک رہے۔

جہاں تک بیوہ، یتیموں اور بزرگوں کو حکومت کی طرف سے ملنے والے وظیفے کا تعلق ہے، تو اگر یہ رقم بطورِ امداد اور تعاون دی جاتی ہے، نہ کہ کسی سودی معاہدے کے بدلے، تو اس کا لینا بالکل جائز ہے۔ بلکہ اسلام میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقات کی کفالت کرے۔

آخر میں، آپ کی یہ فکر کہ آپ کے بعد آپ کے اہلِ خانہ محفوظ رہیں، نہایت قابلِ قدر ہے۔ اس مقصد کے لیے شریعت ہمیں متبادل راستے بھی دیتی ہے، جیسے تکافل (اسلامی انشورنس) اگر دستیاب ہو، یا اپنی زندگی میں زکوٰۃ، صدقات، وقف اور جائز سرمایہ کاری کے ذریعے ایسا نظام بنانا جس سے آپ کے بعد بھی آپ کے گھر والوں کو سہارا ملتا رہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 23, 2026