قرض کے بدلے زیادہ ریال دینے کا حکم
Question
میں نے سعودی عرب میں ایک شخص سے ایک لاکھ روپے قرض لیا تو اس نے کہا 1352 ریال یہاں (سعودی) میں واپس کرنا جو تقریباً یہی بنتے تھے اور ایک مہینے بعد میں نے واپس کر دیئے۔ پھر اگلے مہینے مجھے 1 لاکھ روپے کی ضرورت پڑی اس سے مانگے تو اس نے کہا کہ وہ مجھے پاکستان میں ایک لاکھ روپے دے دے گا ( مجھے بھی پاکستان ہی بجھنے تھے) ، لیکن مجھے اسے یہاں سعودی عرب میں ریال ادا کرنے ہوں گے۔ اس نے مجھ سے 1380 ریال مانگے، جبکہ آن لائن ریٹ کے حساب سے یہ رقم تقریباً 1350 سے 1360 ریال بنتی تھی۔ جب میں نے اعتراض کیا تو اس نے کہا کہ یہ میرا کاروبار ہے، میں کرنسی کی خرید و فروخت کرتا ہوں اور ریٹ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اس لئے آج کا ریٹ 1,380 ریل ہے پاکستانی 1 لاکھ کے مقابلے میں، اگر چائیے تو بتائیں میں پاکستان میں اپکے اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہوں اور اگلے مہینےمجھے 1,380 ریال دے دینا. ۔ اب میں الجھن میں ہوں کہ کیا یہ سود ہے یا نہیں، کیونکہ میں تو قرض لے رہا ہوں جبکہ وہ اسے اپنا کاروبار کہہ رہا ہے۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedآپ کے بیان کے مطابق اگر اس نے آپ کو پاکستان میں 1 لاکھ روپے بطور قرض دیے اور شرط رکھی کہ آپ اسے سعودی عرب میں 1,380 ریال واپس کریں تو قرض پر زیادتی کی شرط ہونے کی وجہ سے یہ درست نہیں اور سود کے حکم میں آئے گا۔
اور اگر وہ اسے کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کہتا ہے تب بھی یہاں مسئلہ یہ ہے کہ روپے اور ریال کا تبادلہ ادھار پر ہو رہا ہے، جبکہ شریعت میں مختلف کرنسیوں کا تبادلہ عموماً اسی وقت (ہاتھوں ہاتھ) ہونا چاہیے۔
لہٰذا اس صورت میں اس طرح کا معاملہ کرنا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جتنے روپے لیے ہیں اتنے ہی واپس کیے جائیں یا پھر کرنسی کا تبادلہ اسی وقت مکمل کیا جائے تاکہ سود کا شبہ نہ رہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
March 06, 2026