AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Saturday, 28 February 2026 Al Sabt, 11 Ramaḍān 1447 AH
Hadith of the Day: أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللّٰهِ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا "The most beloved people to Allah are those with best character." — Tirmidhi (Ṣaḥīḥ)
Faiths & Beliefs | Feb 27, 2026 | 1 min read

“یا رسول اللہ ﷺ” اور قبرستان کی دعا میں “یا” کے استعمال کا فرق

Question

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم “یا رسول اللہ ﷺ” یا “یا نبی اللہ ﷺ” کیوں نہیں کہہ سکتے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الفاظ کہنا درست نہیں تو پھر قبرستان جاتے وقت دعا میں “یا” کا لفظ استعمال کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے: “اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ” (اے قبر والو! تم پر سلام ہو)۔ براہ کرم وضاحت فرمادیں کہ قبرستان کی اس دعا میں “یا” کہنا درست ہے، مگر “یا رسول اللہ ﷺ” یا “یا نبی اللہ ﷺ” کہنے کے بارے میں اختلاف کیوں ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کو مختصر، مدلل اور واضح انداز میں بیان فرما دیں تاکہ سوال کرنے والے کو تسلی بخش جواب مل سکے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

قبرستان کی دعا میں “یا” کہنا اس لیے درست ہے کہ یہ صرف خطاب اور سلام ہے، مدد طلب کرنا نہیں۔ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ

(Sahih Muslim)

یہاں “یا” محض پکار کر سلام کرنے کے لیے ہے، نہ کہ ان سے حاجت مانگنے کے لیے۔

اسی طرح اگر کوئی “یا رسول اللہ ﷺ” محض محبت اور خطاب کے طور پر کہے تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اس میں حرج نہیں، لیکن اگر اس کے ساتھ مدد مانگنے یا فریاد کرنے کا عقیدہ شامل ہو جائے تو پھر یہ درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا

(الجن: 18)

لہٰذا فرق “یا” کے لفظ میں نہیں بلکہ نیت اور عقیدہ میں ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

February 27, 2026