“یا رسول اللہ ﷺ” اور قبرستان کی دعا میں “یا” کے استعمال کا فرق
Question
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم “یا رسول اللہ ﷺ” یا “یا نبی اللہ ﷺ” کیوں نہیں کہہ سکتے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الفاظ کہنا درست نہیں تو پھر قبرستان جاتے وقت دعا میں “یا” کا لفظ استعمال کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے: “اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ” (اے قبر والو! تم پر سلام ہو)۔ براہ کرم وضاحت فرمادیں کہ قبرستان کی اس دعا میں “یا” کہنا درست ہے، مگر “یا رسول اللہ ﷺ” یا “یا نبی اللہ ﷺ” کہنے کے بارے میں اختلاف کیوں ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کو مختصر، مدلل اور واضح انداز میں بیان فرما دیں تاکہ سوال کرنے والے کو تسلی بخش جواب مل سکے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedقبرستان کی دعا میں “یا” کہنا اس لیے درست ہے کہ یہ صرف خطاب اور سلام ہے، مدد طلب کرنا نہیں۔ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ
(Sahih Muslim)
یہاں “یا” محض پکار کر سلام کرنے کے لیے ہے، نہ کہ ان سے حاجت مانگنے کے لیے۔
اسی طرح اگر کوئی “یا رسول اللہ ﷺ” محض محبت اور خطاب کے طور پر کہے تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اس میں حرج نہیں، لیکن اگر اس کے ساتھ مدد مانگنے یا فریاد کرنے کا عقیدہ شامل ہو جائے تو پھر یہ درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا
(الجن: 18)
لہٰذا فرق “یا” کے لفظ میں نہیں بلکہ نیت اور عقیدہ میں ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
February 27, 2026
Related Questions
Tax System in Islam
Islamic Ruling on Watching Dramas and Cartoons
“Women’s Intelligence in Islam
Concealing Islam Under Duress and Taking Father’s Support
Ruling on Saying “Ramadan Mubarak” and Similar Greetings in Islam
Balancing Deen and Career in Ramadan