AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Friday, 17 July 2026 Friday, 3 afar 1448 AH
Hadith of the Day: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا "Whoever cheats is not from us." — Muslim
Faiths & Beliefs | Jul 16, 2026 | 1 min read

اہم اعتقادی سوالات کے جوابات

Question

1۔جب ساری کائنات کو خدا نے بنایا ہے تو اُسے کیا نے بنایا ہے 2 ۔نماز پڑھنے کا reason کیا ہے ، ي پچھلی امتوں کو نہیں تھا ، نہیں پڑھینگے تو عذاب کیو ملےگا ؟ 2۔ کیا اسلام میں آدمی کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے ؟ 3۔ ایک حدیث میں آتا ہے کی جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ کیو ہے لیکن مردوں کی کام ؟ کیا ي بات سچ ہے ! اگر سچ ہے تو مردوں سے گناہ نہیں ہوتے ؟ 4۔سارے پیغمبر صرف مرد کیو ہے عورتیں کیو نہیں ؟ اور قرآن کو لکھنے والے بھی سبھی صرف مرد ہی کیو رہے ؟ برائے مہربانی میرے ان سوالوں کے جواب دیجئے السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ 

1۔ جب ساری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟

یہ سوال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہر چیز کو کسی نے پیدا کیا ہے۔ حالانکہ درست بات یہ ہے کہ ہر مخلوق کا خالق ہوتا ہے، لیکن خالق خود مخلوق نہیں ہوتا۔

عقلی طور پر اگر یہ کہا جائے کہ اللہ کو بھی کسی نے پیدا کیا ہے، تو پھر سوال ہوگا کہ اس پیدا کرنے والے کو کس نے پیدا کیا؟ پھر اس کے پیدا کرنے والے کو کس نے پیدا کیا؟ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا،جسے فلسفے میں تسلسلِ باطل (Infinite Regress) کہا جاتا ہے۔ اسلیۓ عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی ہستی ضرور ہو جو ہمیشہ سے موجود ہو، کسی کی پیدا کی ہوئی نہ ہو، بلکہ سب کی خالق ہو۔ اسی کو فلسفے میں واجب الوجود کہا جاتا ہے، اور وہ صرف اللہ تعالیٰ ہیں۔

قرآن بھی یہی حقیقت بیان کرتا ہے:

 ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ﴾ "کیا وہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ خود اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں؟" (سورۃ الطور: 35)

 

یعنی نہ انسان خود بخود پیدا ہوسکتا ہے اور نہ خود اپنا خالق ہوسکتا ہے، لہٰذا ایک خالق کا ہونا لازمی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 ﴿هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ﴾ "وہی سب سے پہلے ہے اور وہی سب سے آخر ہے۔" (سورۃ الحدید: 3)

 

اور فرمایا:

 ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ﴾ "نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔" (سورۃ الإخلاص: 3)

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا، یہاں تک کہ کہتا ہے: "تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟" جب ایسا خیال آئے تو اللہ کی پناہ مانگو اور اس وسوسے کو چھوڑ دو۔ (صحیح البخاری: 3276، صحیح مسلم: 134)

لہٰذا اللہ تعالیٰ خالق ہیں، مخلوق نہیں، اس لیے "اللہ کو کس نے پیدا کیا؟" کا سوال حقیقت میں درست ہی نہیں بنتا۔

 

2۔ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا پچھلی امتوں میں نماز نہیں تھی؟ اگر نہ پڑھیں تو عذاب کیوں ہوگا؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری نماز کی کوئی ضرورت نہیں۔ نماز کا فائدہ خود بندے کو پہنچتا ہے۔ جیسے ایک مشین بنانے والا اس کے صحیح استعمال کا طریقہ بتاتا ہے، اسی طرح انسان کا خالق بھی بتاتا ہے کہ روحانی، اخلاقی اور عملی کامیابی کس چیز میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ "میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔" (سورۃ الذاریات: 56)

 

اور فرمایا:

 ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔" (سورۃ العنکبوت: 45)

 

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ نماز صرف امتِ محمدیہ ﷺ کو دی گئی۔ سابقہ امتوں میں بھی نماز موجود تھی، اگرچہ اس کی کیفیت مختلف ہوسکتی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:

 ﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ﴾ "اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا۔" (سورۃ إبراهيم: 40)

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

 ﴿وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ﴾ (سورۃ مريم: 55)

 

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

 ﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ (سورۃ مريم: 31)

 

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے خالق کے واضح حکم کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ نافرمانی کرتا ہے، اور ہر قانون کی خلاف ورزی پر سزا ہوتی ہے، چاہے وہ دنیا کا قانون ہو یا اللہ تعالیٰ کا۔

 

3۔ کیا اسلام میں صرف عورتوں پر پابندیاں ہیں؟ اور حدیث میں آیا ہے کہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہوں گی، کیا یہ صحیح ہے؟

یہ تصور درست نہیں کہ اسلام میں صرف عورتوں پر پابندیاں ہیں۔ مرد بھی اللہ کے احکام کے پابند ہیں۔

مثلاً مرد پر بھی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج فرض ہیں۔ اس پر شراب، سود، زنا، رشوت، چوری، ظلم، قتل، جھوٹ اور حرام کمائی حرام ہے۔ مرد کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 ﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ "مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔" (سورۃ النور: 30)

جہاں تک حدیث کا تعلق ہے تو وہ صحیح ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جہنم دیکھی تو اس میں اکثر عورتیں تھیں، کیونکہ وہ شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔ (صحیح البخاری: 29، صحیح مسلم: 907)

اس حدیث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد کم گناہ کرتے ہیں یا عورتیں پیدائشی طور پر بری ہیں، بلکہ نبی ﷺ نے ایک ایسے گناہ سے خبردار فرمایا جو بعض عورتوں میں زیادہ پایا جاتا تھا۔

اسی طرح مردوں کے متعلق بھی سخت وعیدیں آئی ہیں۔ مثلاً سود کھانے والوں، ظلم کرنے والوں، زانیوں، قاتلوں اور تکبر کرنے والوں کے لیے قرآن و حدیث میں شدید عذاب کی وعید موجود ہے۔

لہٰذا اسلام میں جزا و سزا کا معیار مرد یا عورت ہونا نہیں بلکہ ایمان اور اعمال ہیں۔

> ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ "اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔" (سورۃ الحجرات: 13)

 

4۔ سارے انبیاء مرد ہی کیوں تھے؟ اور قرآن لکھنے والے بھی مرد ہی کیوں تھے؟

نبوت کوئی ایسی چیز نہیں جس پر کسی کا حق ہو، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔ جسے اللہ چاہیں، اس منصب کے لیے منتخب فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ﴾ "ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔" (سورۃ النحل: 43، سورۃ یوسف: 109)

 

انبیاء علیہم السلام کو قوموں کی قیادت، مسلسل سفر، مخالفین کا سامنا، جنگیں، دعوت و تبلیغ اور بے شمار سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق یہ ذمہ داری مردوں کو عطا فرمائی۔ اس کا مطلب عورت کی کمی یا حقارت نہیں، کیونکہ اللہ کے نزدیک فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔

 

جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو قرآن کسی انسان نے نہیں لکھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔

جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے لکھتے تھے، وہ کاتبانِ وحی تھے، مصنف نہیں تھے۔ اس زمانے میں عرب معاشرے میں لکھنے پڑھنے والے مرد زیادہ تھے، اس لیے یہ خدمت زیادہ تر انہی نے انجام دی۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ عورت کی کوئی قدر نہیں، درست نہیں۔

 

اسلام کے احکام جذبات یا تعصب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت اور عدل پر مبنی ہیں۔ بہت سے اشکالات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کسی ایک نص کو پورے دینی نظام سے الگ کرکے دیکھا جائے۔ جب قرآن، صحیح حدیث اور عقلِ سلیم کو ساتھ رکھ کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام میں نہ کوئی تضاد ہے اور نہ ناانصافی، بلکہ ہر حکم اپنے مقام پر حکمت سے بھرپور ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 16, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute