AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Sunday, 26 April 2026 Al Ahad, 9 Dhū al-Qaʿdah 1447 AH
Hadith of the Day: أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ "The best prayer after obligatory ones is night prayer." — Muslim
Miscellaneous | Apr 25, 2026 | 1 min read

فحش فلمیں دیکھنے سے کفر اور تجدیدِ نکاح کا حکم

Question

السلام علیکم ایک شخص نے لذت کے لیے گستاخانہ فحش ویڈیوز (جس میں عورت برہنہ ہو کر نعوذ بااللہ اللہ پاک، نبی، اہل بیت اور قرآن وغیرہ کی بے حرمتی کرتی ہیں ) دیکھی اور اپنی بیوی کو بھی دکھائ، جبکہ اس شخص نے خود گستاخی نہی کی اور نہ ہی اس عمل کو جائز سمجھا اور توبہ بھی کی۔ سوال: کیا وہ شخص کافر ہو گیا اور اس کو تجدید نکاح کی ضرورت ہے۔ نوٹ: ہاں یا نہ کو دلیل سے ثابت کریں۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

مذکورہ شخص کا یہ فعل نہایت سنگین گناہ، فحاشی اور مقدسات کی توہین کرنے والے مواد کا مشاہدہ اور دکھانا ہے، جو صریحاً حرام اور سخت بے‌ادبی ہے۔ لیکن چونکہ اس نے خود گستاخی نہیں کی، نہ ہی اس کو جائز سمجھا، بلکہ توبہ بھی کر لی، اس لیے فقہ حنفی کے اصول کے مطابق اس پر کفر کا حکم نہیں لگے گا۔

لہٰذا:

وہ شخص کافر نہیں ہوا،

اس کا نکاح جابجا برقرار ہے،

تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔

تاہم اس پر لازم ہے کہ وہ سچے دل سے توبۂ نصوح کرے، ایسے مواد سے مکمل اجتناب کرے، اور اپنی بیوی کو بھی ان گناہوں سے بچائے۔

الدر المختار میں ہے

«ولا يُكفر المسلم بالذّنب مهما عَظُم، إنْ لم يُعتقد جَوازَه أو يُرْضَ به، أو يُكذّبَ بتحريمه»

یعنی: مسلمان گناہ کے باوجود، چاہے وہ کتنا بھی بڑا ہو، اس وقت تک کافر نہیں ہوتا جب تک وہ اس کے جواز کا عقیدہ رکھے، یا اس سے راضی ہو، یا اس کے حرام ہونے کو جھٹلائے۔

رد المحتار میں لکھا ہے:

«إذا ارتدّ أحد الزوجين عن الإسلام، وثبت الرّدّة عليه، وجب عليه الاستتابة، فإن تاب قام النكاح، وإلاّ سقط»

یعنی: جب نکاح کا کوئی شریک اسلام سے خارج ہو جائے اور اس کی رُدّت ثابت ہو جائے، تو اس کو استتابہ کیا جائے؛ اگر توبہ کر لے تو نکاح قائم رہے گا، ورنہ منحل ہو جائے گا۔

اب صورتِ مسئولہ میں:

شخص کا کفر یا رُدّت ثابت نہیں (کیونکہ نہ گستاخی کا ارتکاب، نہ اس کا اقرار/ رضا، اور توبہ کر لی ہے)،

تو اس کے لیے حکمِ کفر یا رُدّت نہیں لگتا،

اور نہ ہی نکاح کا ٹوٹنا لازم آتا ہے، اس لیے تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔ 

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 25, 2026