Question
السلام علیکم مفتی صاحب،ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: آج ایک شخص نے غصے کی حالت میں فون پر اپنی بیوی کو زبانی طور پر ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دی ہے۔ رہنمائی فرما دیں کہ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جزاک اللہ خیر
Islamic Ruling & Answer
Verifiedطلاق عموماً غصہ ہی کی حالت میں دی جاتی ہے، اور شریعت کی رو سے غصے میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ غصہ اس حد تک نہ ہو کہ آدمی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔
رہی بات فون پر طلاق دینے کی، تو اگر شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کر کے واضح الفاظ میں فون پر طلاق دے دے، تو فون کے ذریعے دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، نیز رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔
عدت گزرنے کے بعد عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
April 13, 2026
Related Questions
Sex before marriage is not permissible in islam
Teesri haiz aur iddat ka hukm
Talaq pronounced without intention
Ruling marry with a New Revert?
الفاظِ کنایہ سے طلاق کا حکم
Is marriage without a guardian valid
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now