AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Online Consultation Business Consultation Questions Category Tree Categories Duas Islamic Names Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact Help

Programs

Invest in Us 🌟 Arabic Program Marriage Counselling SOON Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Saturday, 05 September 2026 Saturday, 23 Rab al-awwal 1448 AH
Hadith of the Day: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "A Muslim harms no one by tongue or hand." — Bukhari, Muslim
Social Matters | Apr 13, 2026 | 1 min read

غصے میں ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟

Question

السلام علیکم مفتی صاحب،ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: آج ایک شخص نے غصے کی حالت میں فون پر اپنی بیوی کو زبانی طور پر ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دی ہے۔ رہنمائی فرما دیں کہ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جزاک اللہ خیر

Islamic Ruling & Answer

Verified

طلاق عموماً غصہ ہی کی حالت میں دی جاتی ہے، اور شریعت کی رو سے غصے میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ غصہ اس حد تک نہ ہو کہ آدمی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

رہی بات فون پر طلاق دینے کی، تو اگر شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کر کے واضح الفاظ میں فون پر طلاق دے دے، تو فون کے ذریعے دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، نیز رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔

عدت گزرنے کے بعد عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے۔

 

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 13, 2026 · Updated July 04, 2026

Researched & verified under our editorial & answer-review policy.

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute