AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Tuesday, 14 April 2026 Al Thalaata, 26 Shawwāl 1447 AH
Hadith of the Day: اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ "Fear Allah wherever you are." — Tirmidhi (Ḥasan)
Social Matters | Apr 13, 2026 | 1 min read

فون پر دی گئ طلاق کا حکم

Question

السلام علیکم مفتی صاحب،ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: آج ایک شخص نے غصے کی حالت میں فون پر اپنی بیوی کو زبانی طور پر ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دی ہے۔ رہنمائی فرما دیں کہ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جزاک اللہ خیر

Islamic Ruling & Answer

Verified

طلاق عموماً غصہ ہی کی حالت میں دی جاتی ہے، اور شریعت کی رو سے غصے میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ غصہ اس حد تک نہ ہو کہ آدمی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

رہی بات فون پر طلاق دینے کی، تو اگر شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کر کے واضح الفاظ میں فون پر طلاق دے دے، تو فون کے ذریعے دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، نیز رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔

عدت گزرنے کے بعد عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے۔

 

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 13, 2026