غصے میں ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟
Question
السلام علیکم مفتی صاحب،ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: آج ایک شخص نے غصے کی حالت میں فون پر اپنی بیوی کو زبانی طور پر ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دی ہے۔ رہنمائی فرما دیں کہ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جزاک اللہ خیر
Islamic Ruling & Answer
طلاق عموماً غصہ ہی کی حالت میں دی جاتی ہے، اور شریعت کی رو سے غصے میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ غصہ اس حد تک نہ ہو کہ آدمی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔
رہی بات فون پر طلاق دینے کی، تو اگر شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کر کے واضح الفاظ میں فون پر طلاق دے دے، تو فون کے ذریعے دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، نیز رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔
عدت گزرنے کے بعد عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
July 04, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Is isbal haram without arrogance?
Ruling on niqab in islam
Islamic guidance on anger
Islamic guidelines for children’s clothing
Ruling on photography and videography
Keys to a successful muslim marriage
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now