AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Online Consultation Business Consultation Questions Category Tree Categories Duas Islamic Names Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact Help

Programs

Invest in Us 🌟 Arabic Program Marriage Counselling SOON Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Friday, 25 September 2026 Friday, 14 Rab al-thn 1448 AH
Hadith of the Day: مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ "Whoever does not show mercy will not be shown mercy." — Bukhari, Muslim
Miscellaneous | Mar 26, 2026 | 1 min read

What Are the Conditions for Khalwah Sahihah Between Husband and Wife?

Question

اگر میاں بیوی گیسٹ روم میں ملیں۔ ان کا نکاح ہوا ہو مگر رخصتی نہ ہوئی ہو۔ بار بار چھوٹا بھائی اندر آ رہا ہو تو میاں فوراً جا کر کمرے کا دروازہ لاک کر دے، اور جیسے ہی وہ بیوی کے پاس جا کر بیٹھے تو بیوی کہے: "لاک کیوں کیا ہے؟ باہر سب کیا کہیں گے؟" پھر میاں جا کر دروازے کا لاک کھول دے، البتہ دروازہ بند ہی رہے، تو کیا یہ خلوۃِ صحیحہ ہوگی؟ باہر لوگ موجود ہیں اور وہ بغیر اجازت کے بھی اندر آ سکتے تھے۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

یہ کہنا درست نہیں کہ مذکورہ صورت میں خلوۃِ صحیحہ ہو گئی، کیونکہ خلوۃِ صحیحہ کے تحقق کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایسی مکمل اور محفوظ تنہائی میں ہوں جہاں کسی تیسرے شخص کے اچانک داخل ہونے کا کوئی حقیقی اندیشہ نہ ہو۔

جبکہ اس واقعہ میں خود یہ بات واضح ہے کہ:

چھوٹا بھائی بار بار کمرے میں آ رہا تھا

دروازہ لاک کیا گیا لیکن فوراً کھول بھی دیا گیا

باہر دیگر افراد موجود تھے اور بلا اجازت داخلے کا امکان برقرار تھا

لہٰذا ایسی حالت کو شرعاً مکمل خلوت قرار نہیں دیا جا سکتا، اور خلوۃِ صحیحہ ثابت نہیں ہوتی۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 04, 2026

Researched & verified under our editorial & answer-review policy.

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute