AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact Support

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Monday, 10 August 2026 Monday, 27 afar 1448 AH
Hadith of the Day: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى "The giving hand is better than the receiving hand." — Bukhari, Muslim
Miscellaneous | Mar 26, 2026 | 1 min read

What Are the Conditions for Khalwah Sahihah Between Husband and Wife?

Question

اگر میاں بیوی گیسٹ روم میں ملیں۔ ان کا نکاح ہوا ہو مگر رخصتی نہ ہوئی ہو۔ بار بار چھوٹا بھائی اندر آ رہا ہو تو میاں فوراً جا کر کمرے کا دروازہ لاک کر دے، اور جیسے ہی وہ بیوی کے پاس جا کر بیٹھے تو بیوی کہے: "لاک کیوں کیا ہے؟ باہر سب کیا کہیں گے؟" پھر میاں جا کر دروازے کا لاک کھول دے، البتہ دروازہ بند ہی رہے، تو کیا یہ خلوۃِ صحیحہ ہوگی؟ باہر لوگ موجود ہیں اور وہ بغیر اجازت کے بھی اندر آ سکتے تھے۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

یہ کہنا درست نہیں کہ مذکورہ صورت میں خلوۃِ صحیحہ ہو گئی، کیونکہ خلوۃِ صحیحہ کے تحقق کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایسی مکمل اور محفوظ تنہائی میں ہوں جہاں کسی تیسرے شخص کے اچانک داخل ہونے کا کوئی حقیقی اندیشہ نہ ہو۔

جبکہ اس واقعہ میں خود یہ بات واضح ہے کہ:

چھوٹا بھائی بار بار کمرے میں آ رہا تھا

دروازہ لاک کیا گیا لیکن فوراً کھول بھی دیا گیا

باہر دیگر افراد موجود تھے اور بلا اجازت داخلے کا امکان برقرار تھا

لہٰذا ایسی حالت کو شرعاً مکمل خلوت قرار نہیں دیا جا سکتا، اور خلوۃِ صحیحہ ثابت نہیں ہوتی۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

March 26, 2026 · Updated July 04, 2026

Researched & verified under our editorial & answer-review policy.

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute