Question
اگر میاں بیوی گیسٹ روم میں ملیں۔ ان کا نکاح ہوا ہو مگر رخصتی نہ ہوئی ہو۔ بار بار چھوٹا بھائی اندر آ رہا ہو تو میاں فوراً جا کر کمرے کا دروازہ لاک کر دے، اور جیسے ہی وہ بیوی کے پاس جا کر بیٹھے تو بیوی کہے: "لاک کیوں کیا ہے؟ باہر سب کیا کہیں گے؟" پھر میاں جا کر دروازے کا لاک کھول دے، البتہ دروازہ بند ہی رہے، تو کیا یہ خلوۃِ صحیحہ ہوگی؟ باہر لوگ موجود ہیں اور وہ بغیر اجازت کے بھی اندر آ سکتے تھے۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedیہ کہنا درست نہیں کہ مذکورہ صورت میں خلوۃِ صحیحہ ہو گئی، کیونکہ خلوۃِ صحیحہ کے تحقق کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایسی مکمل اور محفوظ تنہائی میں ہوں جہاں کسی تیسرے شخص کے اچانک داخل ہونے کا کوئی حقیقی اندیشہ نہ ہو۔
جبکہ اس واقعہ میں خود یہ بات واضح ہے کہ:
چھوٹا بھائی بار بار کمرے میں آ رہا تھا
دروازہ لاک کیا گیا لیکن فوراً کھول بھی دیا گیا
باہر دیگر افراد موجود تھے اور بلا اجازت داخلے کا امکان برقرار تھا
لہٰذا ایسی حالت کو شرعاً مکمل خلوت قرار نہیں دیا جا سکتا، اور خلوۃِ صحیحہ ثابت نہیں ہوتی۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
March 26, 2026
Related Questions
حكم الاحتفاظ بالمبلغ بعد وصول الشحنة
Is a YouTube Automation Business Halal in Islam?
Is It Permissible to Use Someone Else’s Medical Card to Obtain Medicine?
Are Games Like God of War, Genshin Impact, and Skyrim Halal to Play?
Is Playing Blackjack Without Real Money Haram?
Can Muslims Create Video Games in Islam?
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now