Question
السلام علیکم مفتی صاحب۔ میں نے 2024 میں ایک یوٹیوب چینل شروع کیا تھا جہاں ٹیکنالوجی سے متعلق ویڈیوز بناتا ہوں۔ میرا کام حلال ہے، لیکن شروع میں والد صاحب کو اس بارے میں معلوم نہیں تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں صرف پڑھائی کروں۔ بعد میں انہیں پتا چلا تو کافی مسائل ہوئے، چینل بند بھی کروایا، پھر بہت سمجھانے کے بعد میں نے نیا چینل شروع کیا۔ اس نئے چینل پر پہلے سے بہتر پیش رفت ہے، مگر پھر بھی وہ کامیابی نہیں مل رہی جس کی میں امید کر رہا ہوں۔ میرا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بچپن اور کم عمری میں مجھ سے بہت غلطیاں ہوئیں۔ میں نے کچھ لوگوں کے پیسے اور چیزیں لی تھیں، یعنی لوگوں کے حقوق تلف کیے۔ اس وقت مجھے اس گناہ کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اب اپنی غلطی کا احساس اور ندامت ہے۔ اب میں آہستہ آہستہ لوگوں کے حقوق واپس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کچھ لوگوں کو ان کا حق واپس دے چکا ہوں، اور جو وفات پا چکے ہیں ان کی طرف سے صدقہ بھی کیا ہے۔ میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کیا انہی حقوق کی وجہ سے میری زندگی میں بے سکونی، مشکلات اور کامیابی میں رکاوٹ آ رہی ہے؟ میں دعا بھی کرتا ہوں مگر دل کو سکون نہیں ملتا اور حالات بھی آسان نہیں ہو رہے۔ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اب مزید کیا کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی رضا بھی حاصل ہو اور دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام
آپ کی ندامت اور لوگوں کے حقوق واپس کرنے کی کوشش خود سچی توبہ کی بڑی علامت ہے۔ جن لوگوں کا حق لیا تھا، ان کے حقوق ادا کرتے رہیں یا معافی مانگنے کی کوشش کریں، یہی سب سے اہم قدم ہے۔ جو لوگ وفات پا چکے ہیں، ان کی طرف سے صدقہ کرنا بھی اچھا عمل ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر مشکل صرف انہی گناہوں کی وجہ سے ہو، لیکن حقوق العباد انسان کے سکون اور زندگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے مایوس ہونے کے بجائے اللہ سے امید رکھیں اور اصلاح کا راستہ جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سچی توبہ قبول فرمانے والے ہیں، اور وہ ایک لمحے میں حالات بدلنے پر قادر ہیں۔
دل کے سکون کے لیے کثرت سے استغفار کریں: “أستغفر الله وأتوب إليه”، صبح و شام “حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم” پڑھنے کی عادت بنائیں، درود شریف کی پابندی کریں، اور تہجد میں اللہ سے دل کھول کر دعا کریں۔ سورۂ ضحیٰ اور سورۂ شرح کی تلاوت بھی دل کو سکون دیتی ہے۔
اپنے حلال کام اور محنت کو جاری رکھیں۔ کامیابی میں تاخیر ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتی، کبھی اللہ تعالیٰ بہتر وقت کے لیے چیزوں کو مؤخر فرما دیتے ہیں۔
اللہ ربّ العزّت سے دعا ہے کہ آپکی ہر پریشانی کو دور فرماۓ اور آپکو دلی سکون عطا فرمائے ۔۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 12, 2026
Related Questions
Hukm of Hurmat al-Musaharah in indirect contact case
Medical billing job and riba concern in Insurance claims
Women traveling without a mahram: ruling for study/work
Stand against oppression—support the innocent.
Using pirated content: what to do and how to repent