Question
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک عورت نے نفلی طواف کا ایک چکر حالتِ طہارت میں لگایا اور باقی کے چکر نہیں لگائے۔ اب اسے حیض آ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس طواف کو مکمل نہیں کر سکتی۔ کیا ایسی صورت میں کوئی اور اس عورت کی طرف سے باقی طواف مکمل کر سکتا ہے؟ یا اس صورت میں یہ طواف اسی طرح چھوڑ دینا درست ہے؟ اور کیا اس صورت میں اس پر دم لازم آئے گا یا صدقہ دینا ہوگا، یا کچھ بھی لازم نہیں ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
نفل طواف شروع کرنے کے بعد اسے مکمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر کسی عورت نے ایک چکر طواف کر لیا اور پھر حیض آ گیا، تو کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے باقی چکر پورے نہیں کر سکتا، کیونکہ طواف عبادتِ بدنی ہے اور نیابت اس میں جائز نہیں۔
حیض ختم ہونے اور طہارت حاصل کرنے کے بعد وہ خود باقی طواف مکمل کرے۔ اگر کسی وجہ سے وہ مکمل نہ کر سکے تو اس نفل طواف کی قضا کرنا لازم ہوگی۔
اس صورت میں محض حیض آ جانے کی وجہ سے نہ دم لازم ہے اور نہ صدقہ، البتہ طواف کو بعد میں خود مکمل کرنا یا اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 11, 2026
Related Questions
Using a tissue to wipe tears during prayer
Praying outdoors when no mosque is available
حكم الأشياء المستعملة أثناء الحيض أو الجنابة
حكم الغُسل عند الشك في الاحتلام وخروج المني
حالتِ حیض میں طوافِ وداع کا حکم
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now