AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Friday, 12 June 2026 Al Juma'a, 26 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ "Actions are judged by intentions." — Bukhari, Muslim
Prayers & Duties | Jun 11, 2026 | 1 min read

Question

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک عورت نے نفلی طواف کا ایک چکر حالتِ طہارت میں لگایا اور باقی کے چکر نہیں لگائے۔ اب اسے حیض آ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس طواف کو مکمل نہیں کر سکتی۔ کیا ایسی صورت میں کوئی اور اس عورت کی طرف سے باقی طواف مکمل کر سکتا ہے؟ یا اس صورت میں یہ طواف اسی طرح چھوڑ دینا درست ہے؟ اور کیا اس صورت میں اس پر دم لازم آئے گا یا صدقہ دینا ہوگا، یا کچھ بھی لازم نہیں ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ 

نفل طواف شروع کرنے کے بعد اسے مکمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر کسی عورت نے ایک چکر طواف کر لیا اور پھر حیض آ گیا، تو کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے باقی چکر پورے نہیں کر سکتا، کیونکہ طواف عبادتِ بدنی ہے اور نیابت اس میں جائز نہیں۔

حیض ختم ہونے اور طہارت حاصل کرنے کے بعد وہ خود باقی طواف مکمل کرے۔ اگر کسی وجہ سے وہ مکمل نہ کر سکے تو اس نفل طواف کی قضا کرنا لازم ہوگی۔

اس صورت میں محض حیض آ جانے کی وجہ سے نہ دم لازم ہے اور نہ صدقہ، البتہ طواف کو بعد میں خود مکمل کرنا یا اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

June 11, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute