Question
ایک عورت کی حیض کی عادت 8، 9 یا 10 دن کی ہے۔ اس نے 9ویں دن اپنے آپ کو پاک سمجھ کر طوافِ وداع ادا کر لیا۔ طوافِ وداع مکمل کرنے کے بعد دوبارہ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی ناپاکی (حیض) موجود تھی۔ اسی دن اس کی واپسی کی فلائٹ بھی تھی، اس لیے وہ دوبارہ طوافِ وداع نہیں کر سکی۔ ایسی صورت میں کیا اس کا طوافِ وداع درست شمار ہوگا؟ اگر طوافِ وداع درست نہ ہوا ہو تو کیا اس پر کوئی دم یا فدیہ لازم ہوگا؟
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر کسی عورت کی حیض کی عادت 8، 9 یا 10 دن کی ہو اور اس نے نویں دن اپنے آپ کو پاک سمجھتے ہوئے طوافِ وداع ادا کر لیا، لیکن طواف مکمل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت ابھی حالتِ حیض میں تھی اور پاکی حاصل نہیں ہوئی تھی، تو فقہِ حنفی کے مطابق حالتِ حیض میں کیا گیا طوافِ وداع شرعاً معتبر نہیں ہوگا، کیونکہ طواف کے صحیح ہونے کے لیے حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔
تاہم طوافِ وداع حج کا فرض یا رکن نہیں بلکہ واجب ہے، اور شریعت نے حائضہ عورت کو اس واجب سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اگر روانگی کے وقت عورت حالتِ حیض میں ہو تو اس سے طوافِ وداع کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ صورت میں جب بعد میں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ طواف کے وقت بھی حائضہ تھی اور اسی دن واپسی کی فلائٹ ہونے کی وجہ سے دوبارہ طوافِ وداع کرنا ممکن نہ تھا، تو اگرچہ اس کا کیا ہوا طوافِ وداع صحیح شمار نہیں ہوگا، لیکن اس پر طوافِ وداع کے ترک کی وجہ سے نہ کوئی گناہ ہوگا اور نہ ہی کوئی دم یا فدیہ لازم آئے گا، کیونکہ حائضہ عورت شرعاً طوافِ وداع کی پابند نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کا حج درست ہے اور اس پر مزید کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 04, 2026
Related Questions
طوافِ وداع میں وضو ٹوٹنے کے شک کا حکم
حائضہ عورت کے لۓ طوافِ وداع کا حکم
لیکوریا کی حالت میں طواف اور کپڑوں کی طہارت کا حکم
صحة غسل الجنابة
حكم الغسل عند الشك في خروج المني بعد الاحتلام
الاغتسال من الحيض يجزئ عن الجنابة
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now