AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Monday, 01 June 2026 Al Athnayn, 15 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ "Two blessings many people waste: health and free time." — Bukhari
Prayers & Duties | Jun 01, 2026 | 1 min read

غنودگی میں طوافِ زیارت اور بعد میں اعادہ کرنے کا حکم

Question

السلام علیکم! اگر کسی شخص نے غنودگی کی حالت میں طوافِ زیارت کیا، یعنی چلتے چلتے کبھی کبھی آنکھ لگ جاتی تھی اور اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد اس نے دوبارہ ایک طواف، طوافِ زیارت کی نیت سے کر لیا تو کیا طوافِ زیارت کا فرض ادا ہوگیا کوئی دم تو لازم نہیں ہوگا

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

اگر پہلی بار طوافِ زیارت غنودگی کی ایسی حالت میں کیا تھا کہ شعور برقرار تھا اور طواف کے اعمال کا ادراک تھا، تو وہ طواف درست ہو گیا تھا۔ لیکن اگر اتنی نیند طاری تھی کہ شعور باقی نہ رہا، تو وہ طواف معتبر نہیں تھا۔

بہرصورت، اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد دوبارہ طوافِ زیارت کر لیا، تو طوافِ زیارت کا فرض ادا ہو گیا۔ البتہ طوافِ زیارت کو ایامِ نحر سے مؤخر کرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا، اگر پہلے صحیح طوافِ زیارت ادا نہ ہوا تھا۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

June 01, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute