غنودگی میں طوافِ زیارت اور بعد میں اعادہ کرنے کا حکم
Question
السلام علیکم! اگر کسی شخص نے غنودگی کی حالت میں طوافِ زیارت کیا، یعنی چلتے چلتے کبھی کبھی آنکھ لگ جاتی تھی اور اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد اس نے دوبارہ ایک طواف، طوافِ زیارت کی نیت سے کر لیا تو کیا طوافِ زیارت کا فرض ادا ہوگیا کوئی دم تو لازم نہیں ہوگا
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام
اگر پہلی بار طوافِ زیارت غنودگی کی ایسی حالت میں کیا تھا کہ شعور برقرار تھا اور طواف کے اعمال کا ادراک تھا، تو وہ طواف درست ہو گیا تھا۔ لیکن اگر اتنی نیند طاری تھی کہ شعور باقی نہ رہا، تو وہ طواف معتبر نہیں تھا۔
بہرصورت، اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد دوبارہ طوافِ زیارت کر لیا، تو طوافِ زیارت کا فرض ادا ہو گیا۔ البتہ طوافِ زیارت کو ایامِ نحر سے مؤخر کرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا، اگر پہلے صحیح طوافِ زیارت ادا نہ ہوا تھا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 01, 2026
Related Questions
الغسل من الحيض والجنابة معًا
Ruling on crossing the miqat without performing the farewell tawaf (Tawaf al-Wada‘)
جوتوں پر لگی مٹی کے ساتھ نجاست دھونے کا حکم
طوافِ زیارت میں اونگھ آنے کا حکم
Billi ke peshab ka hukm
"حیض میں شک کی بنیاد پر کیے گئے طوافِ زیارت کا اعادہ اور دم کا حکم"
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now