AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Friday, 17 July 2026 Friday, 3 afar 1448 AH
Hadith of the Day: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا "Whoever cheats is not from us." — Muslim
Prayers & Duties | Jun 01, 2026 | 1 min read

اگر غنودگی کی حالت میں طوافِ زیارت کیا ہو تو کیا دوبارہ طواف کرنے سے فرض ادا ہو جائے گا؟

Question

السلام علیکم! اگر کسی شخص نے غنودگی کی حالت میں طوافِ زیارت کیا، یعنی چلتے چلتے کبھی کبھی آنکھ لگ جاتی تھی اور اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد اس نے دوبارہ ایک طواف، طوافِ زیارت کی نیت سے کر لیا تو کیا طوافِ زیارت کا فرض ادا ہوگیا کوئی دم تو لازم نہیں ہوگا

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

اگر پہلی بار طوافِ زیارت غنودگی کی ایسی حالت میں کیا تھا کہ شعور برقرار تھا اور طواف کے اعمال کا ادراک تھا، تو وہ طواف درست ہو گیا تھا۔ لیکن اگر اتنی نیند طاری تھی کہ شعور باقی نہ رہا، تو وہ طواف معتبر نہیں تھا۔

بہرصورت، اگر بعد میں ایامِ نحر گزرنے کے بعد دوبارہ طوافِ زیارت کر لیا، تو طوافِ زیارت کا فرض ادا ہو گیا۔ البتہ طوافِ زیارت کو ایامِ نحر سے مؤخر کرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا، اگر پہلے صحیح طوافِ زیارت ادا نہ ہوا تھا۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

June 01, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute