جوتوں پر لگی مٹی کے ساتھ نجاست دھونے کا حکم
Question
اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ جوتے پاک کرتے وقت مٹی وغیرہ کو بھی زائل کرنا ضروری ہے؟ جیسے کسی دراڑ میں یا ربر کے جوتوں میں کہیں اوپر نیچے ڈیزائن سے ہوتے ہیں اور مٹی سی بھی تو ادھر اگر نجاست جیسے پیشاب کی چھینٹیں جائیں تو کیا مٹی وغیرہ زائل کرنا ضروری ہے۔ اگر مشکل ہو تو؟ اصل میں پہلے کبھی اتنا غور نہیں کیا تھا اور بس تین دفعہ پانی بہا دیتے تھے یا نلکے کے پانی سے دھو لیتے تھے، رگڑتے نہ تھے۔ لیکن مٹی لگی ہوتی تھی. کیونکہ ٹشو پر بھورا سا رنگ آتا تھا۔ اب غور کیا ہے تو مٹی جگہ جگہ لگی ہے، تہہ سی بھی ہے کچھ جگہ۔ اب شک ہے کہ مٹی زائل نہ کی تھی تو ناپاک رہ گئے جوتے اور پیر بھی ہو گئے ناپاک پھر باہر کی اشیا وغیرہ بھی۔ مٹی اگر پانی پہنچانے سے مانع نہیں ہوتی تو کیا پاک ہی سمجھیں؟ اور اگر اس مٹی پر ناپاک پانی آ گیا دھوتے وقت تو جوتا پاک کرنے سے وہ تہہ بھی پاک ہو گئی؟ یعنی بعد میں پاک پانی سے دھونے سے۔ کافی وسوسہ اور شک ہو رہا ہے کیونکہ انہی جوتوں میں وضو، غسل وغیرہ کرتے ہیں باقی لوگ بھی اور پھر گیلے پیر باہر قالین وغیرہ پر پڑے تو وہ بھی نا پاک ہو گیا۔ ویسے بھی وسوسہ ہوتا رہتا ہے۔ جَزَاكُمُ ٱللَّٰهُ خَيْرًا كَثِيرًا
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام
جوتے یا کسی بھی ایسی چیز پر اگر نجاست لگ جائے تو اسے دھونے کا مقصد نجاست کو زائل کرنا ہے، ہر حال میں مٹی کے ہر ذرّے یا ہر تہہ کو کھرچ کر نکالنا ضروری نہیں۔ اگر پانی اچھی طرح بہا دیا گیا اور غالب گمان ہے کہ نجاست دور ہو گئی، تو چیز پاک شمار ہوگی۔
جوتوں کی دراڑوں، ڈیزائنوں یا ربر کی باریک جگہوں میں موجود عام مٹی اگر پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ نہ بن رہی ہو تو اس کا باقی رہ جانا پاکی کے منافی نہیں۔ اسی طرح اگر نجاست لگی ہو اور آپ نے جوتا دھو لیا، پھر پاک پانی اس جگہ تک پہنچ گیا، تو وہاں موجود مٹی بھی تابعاً پاک ہو جاتی ہے، خواہ اس کا رنگ باقی رہے۔
آپ نے پہلے جو طریقہ بیان کیا کہ تین مرتبہ پانی بہا دیتے تھے یا نلکے کے نیچے اچھی طرح دھو لیتے تھے، تو اصل یہ ہے کہ جب تک یقین نہ ہو کہ نجاست باقی رہ گئی تھی، جوتوں کو ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا۔ محض یہ دیکھنا کہ ٹشو پر مٹی کا بھورا رنگ آ رہا تھا، اس سے نجاست کا باقی ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ مٹی کا رنگ اور نجاست دو الگ چیزیں ہیں۔
لہٰذا آپ کے جوتوں، پیروں، قالین اور دوسری اشیاء کے بارے میں محض شک اور وسوسے کی بنا پر ناپاکی کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ شرعی اصول یہ ہے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"۔ جب تک نجاست کے باقی رہنے کا یقین نہ ہو، چیز کو پاک ہی سمجھا جائے گا۔
اگر آپ کو پہلے سے وسوسے کی شکایت رہتی ہے تو ایسے شکوک پر توجہ نہ دیں، کیونکہ فقہاء نے وسوسوں میں مبتلا شخص کو بار بار تحقیق اور تفتیش سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 31, 2026
Related Questions
Ruling on crossing the miqat without performing the farewell tawaf (Tawaf al-Wada‘)
طوافِ زیارت میں اونگھ آنے کا حکم
Billi ke peshab ka hukm
"حیض میں شک کی بنیاد پر کیے گئے طوافِ زیارت کا اعادہ اور دم کا حکم"
رؤية العلاقة الجنسية في المنام دون إنزال
طواف کے بعد وضو ٹوٹنے کے شک کا حکم
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now