اگر واپسی کی فلائٹ ہو اور حیض ختم ہونے میں شک ہو تو طوافِ وداع کا کیا حکم ہے؟
Question
اگر ایک عورت حج پر گئی ہوئی ہو اور اس کی حیض کی عادت 9 سے 10 دن کی ہو، اور اسے نویں دن پاک ہونے کا شک ہو لیکن پاکی واضح طور پر معلوم نہ ہو، جبکہ اسی دن اس کی واپسی کی فلائٹ بھی ہو، تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ ضروری تفصیلات: پاکی کا صرف شک تھا یہ حیض اس کی معمول کی عادت (9–10 دن) کے اندر تھا- صرف طوافِ وداع باقی تھا
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر عورت کو نویں دن صرف پاک ہونے کا شک ہو اور پاکی کی کوئی واضح علامت (مکمل خشکی یا سفید رطوبت) نظر نہ آئی ہو، جبکہ یہ مدت اس کی معمول کی عادت (9–10 دن) کے اندر بھی ہو، تو وہ حائضہ ہی شمار ہوگی؛ کیونکہ محض شک سے پاکی ثابت نہیں ہوتی۔
لہٰذا اگر اس حالت میں صرف طوافِ وداع باقی ہو اور واپسی کی فلائٹ کا وقت آ جائے، تو وہ طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہو سکتی ہے، کیونکہ حائضہ عورت سے طوافِ وداع ساقط ہو جاتا ہے اور اس پر کوئی دم بھی لازم نہیں آتا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 04, 2026
Related Questions
Islamic ruling on financing parents' hajj while in debt
Mard aur aurat ke kafan mein farq
Ghusl and doubt after waking up
Can one be Muslim without making prayers?
Can a Muslim Skip Hajj Due to Disagreement With the Imam or Government?
من هو المسكين الذي يجوز إطعامه في الكفارة؟
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now