AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact Help

Programs

Invest in Us 🌟 Arabic Program Marriage Counselling SOON Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Tuesday, 18 August 2026 Tuesday, 5 Rab al-awwal 1448 AH
Hadith of the Day: خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ "The best supplication is on the Day of Arafah." — Tirmidhi (Ḥasan)
Prayers & Duties | Jun 04, 2026 | 1 min read

اگر واپسی کی فلائٹ ہو اور حیض ختم ہونے میں شک ہو تو طوافِ وداع کا کیا حکم ہے؟

Question

اگر ایک عورت حج پر گئی ہوئی ہو اور اس کی حیض کی عادت 9 سے 10 دن کی ہو، اور اسے نویں دن پاک ہونے کا شک ہو لیکن پاکی واضح طور پر معلوم نہ ہو، جبکہ اسی دن اس کی واپسی کی فلائٹ بھی ہو، تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ ضروری تفصیلات: پاکی کا صرف شک تھا یہ حیض اس کی معمول کی عادت (9–10 دن) کے اندر تھا- صرف طوافِ وداع باقی تھا

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر عورت کو نویں دن صرف پاک ہونے کا شک ہو اور پاکی کی کوئی واضح علامت (مکمل خشکی یا سفید رطوبت) نظر نہ آئی ہو، جبکہ یہ مدت اس کی معمول کی عادت (9–10 دن) کے اندر بھی ہو، تو  وہ حائضہ ہی شمار ہوگی؛ کیونکہ محض شک سے پاکی ثابت نہیں ہوتی۔

لہٰذا اگر اس حالت میں صرف طوافِ وداع باقی ہو اور واپسی کی فلائٹ کا وقت آ جائے، تو وہ طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہو سکتی ہے، کیونکہ حائضہ عورت سے طوافِ وداع ساقط ہو جاتا ہے اور اس پر کوئی دم بھی لازم نہیں آتا۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

June 04, 2026 · Updated June 25, 2026

Researched & verified under our editorial & answer-review policy.

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute