AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Saturday, 30 May 2026 Al Sabt, 13 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ "The closest a servant is to Allah is in prostration." — Muslim
Prayers & Duties | May 30, 2026 | 1 min read

"حیض میں شک کی بنیاد پر کیے گئے طوافِ زیارت کا اعادہ اور دم کا حکم"

Question

اگر کسی عورت نے صرف شک کی بنیاد پر، جبکہ اسے حیض شروع ہونے کا یقین نہیں تھا، طوافِ زیارت کر لیا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت حیض شروع ہو چکا تھا، پھر ایامِ نحر (10، 11، 12 ذوالحجہ) گزرنے کے بعد حیض ختم ہو گیا اور وہ پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت کا اعادہ کر لے، تو کیا اس صورت میں طوافِ زیارت درست ہو جائے گا؟ نیز کیا پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت کا اعادہ کر لینے سے دم ساقط ہو جائے گا، یا چونکہ اعادہ ایامِ نحر کے بعد ہوا ہے اس لیے دم پھر بھی لازم رہے گا؟ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر کسی عورت نے صرف شک کی بنیاد پر، جبکہ اسے یقین نہیں تھا کہ حیض شروع ہو چکا ہے، طوافِ زیارت کر لیا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت حیض شروع ہو چکا تھا، پھر ایامِ نحر (10، 11، 12 ذوالحجہ) گزر گئے اور اس کے بعد وہ پاک ہو گئی، تو اب جب وہ پاک ہو کر طوافِ زیارت کا اعادہ کرے گی تو اس کا طوافِ زیارت صحیح ہو جائے گا اور حج مکمل ہو جائے گا۔ اس صورت میں دم ساقط ہو جائے گا، یعنی اس پر کوئی قربانی (دم یا بدنہ) لازم نہیں رہے گی، چاہے اعادہ ایامِ نحر کے بعد ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ اگر عورت حیض کی وجہ سے طوافِ زیارت نہ کرسکے، تو اس پر تاخیر کی وجہ سے کوئی دم لازم نہیں آتا، بس وہ پاک ہونے کے بعد طواف کرے، اور اگر اعادہ کر لے تو دم ساقط ہو جاتا ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

May 30, 2026