"حیض میں شک کی بنیاد پر کیے گئے طوافِ زیارت کا اعادہ اور دم کا حکم"
Question
اگر کسی عورت نے صرف شک کی بنیاد پر، جبکہ اسے حیض شروع ہونے کا یقین نہیں تھا، طوافِ زیارت کر لیا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت حیض شروع ہو چکا تھا، پھر ایامِ نحر (10، 11، 12 ذوالحجہ) گزرنے کے بعد حیض ختم ہو گیا اور وہ پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت کا اعادہ کر لے، تو کیا اس صورت میں طوافِ زیارت درست ہو جائے گا؟ نیز کیا پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت کا اعادہ کر لینے سے دم ساقط ہو جائے گا، یا چونکہ اعادہ ایامِ نحر کے بعد ہوا ہے اس لیے دم پھر بھی لازم رہے گا؟ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر کسی عورت نے صرف شک کی بنیاد پر، جبکہ اسے یقین نہیں تھا کہ حیض شروع ہو چکا ہے، طوافِ زیارت کر لیا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت حیض شروع ہو چکا تھا، پھر ایامِ نحر (10، 11، 12 ذوالحجہ) گزر گئے اور اس کے بعد وہ پاک ہو گئی، تو اب جب وہ پاک ہو کر طوافِ زیارت کا اعادہ کرے گی تو اس کا طوافِ زیارت صحیح ہو جائے گا اور حج مکمل ہو جائے گا۔ اس صورت میں دم ساقط ہو جائے گا، یعنی اس پر کوئی قربانی (دم یا بدنہ) لازم نہیں رہے گی، چاہے اعادہ ایامِ نحر کے بعد ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ اگر عورت حیض کی وجہ سے طوافِ زیارت نہ کرسکے، تو اس پر تاخیر کی وجہ سے کوئی دم لازم نہیں آتا، بس وہ پاک ہونے کے بعد طواف کرے، اور اگر اعادہ کر لے تو دم ساقط ہو جاتا ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 30, 2026
Related Questions
رؤية العلاقة الجنسية في المنام دون إنزال
طواف کے بعد وضو ٹوٹنے کے شک کا حکم
Scented shampoo before halq in ihram
حكم الإفرازات الوردية أو الصفراء بعد الطهر من الحيض
حكم رؤية العلاقة الجنسية في المنام دون إنزال
حكم الغسل بعد رؤية هذا الحلم