اگر حیض کی حالت میں طوافِ زیارت کرنے پر دم واجب ہو اور استطاعت نہ ہو تو کیا حکم ہے؟
Question
اگر کوئی عورت حالتِ ناپاکی (حیض) میں طوافِ زیارت کر لے اور اس پر بطورِ دم ایک بڑے جانور (گائے یا اونٹ) کی قربانی لازم ہو جائے، لیکن اس کے پاس اتنی مالی استطاعت نہ ہو کہ وہ دم ادا کر سکے، تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا دم کے بدلے کوئی متبادل (مثلاً روزے وغیرہ) موجود ہے، یا استطاعت حاصل ہونے تک دم اس کے ذمے باقی رہے گا؟ برائے کرم قرآن و سنت اور فقہی دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر عورت نے حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لیا تو اس پر بطورِ جزا ایک بدَنہ (اونٹ یا گائے) ذبح کرنا واجب ہوتا ہے۔ اگر اس وقت مالی استطاعت نہ ہو تو اس کے بدلے روزے یا کوئی دوسرا بدل مقرر نہیں ہے۔ لہٰذا یہ واجب اس کے ذمے قرض کی طرح باقی رہے گا، اور جب بھی استطاعت حاصل ہو جائے تو حدودِ حرم میں بدَنہ ذبح کرانا لازم ہوگا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 01, 2026
Related Questions
Islamic ruling on financing parents' hajj while in debt
Mard aur aurat ke kafan mein farq
Ghusl and doubt after waking up
Can one be Muslim without making prayers?
Can a Muslim Skip Hajj Due to Disagreement With the Imam or Government?
من هو المسكين الذي يجوز إطعامه في الكفارة؟
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now