لیکوریا کی حالت میں طواف اور کپڑوں کی طہارت کا حکم
Question
ایک عورت شرعی معذور نہیں ہے، یعنی وہ ایک فرض نماز کے لیے وضو کرکے نماز ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اسے لیکوریا (سفید رطوبت) کا مسئلہ ہے اور استنجا و وضو کے بعد اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ کعبہ تک پہنچ کر طواف شروع کر لے یا طواف کا ایک چکر بھی مکمل کر سکے، کیونکہ اس دوران رطوبت خارج ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ طواف کس طرح ادا کرے؟ کیا ہر بار رطوبت خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا، یا اس کے لیے کوئی شرعی رخصت موجود ہے؟
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر واقعی اس عورت کو اتنا بھی وقت نہیں ملتا کہ وضو کے بعد طواف کا ایک چکر مکمل کر سکے، اور یہ کیفیت مسلسل اس طرح برقرار ہو کہ اسے طہارت کے ساتھ عبادت ادا کرنے کا موقع نہ ملے، تو وہ شرعاً معذور کے حکم میں آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ ایک وقتِ نماز کے لیے وضو کرکے طواف کر سکتی ہے، اور دورانِ طواف لیکوریا خارج ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ وقتِ نماز ختم ہونے پر نیا وضو کرنا ہوگا۔
البتہ اگر اسے اتنا وقفہ مل جاتا ہے کہ وضو کے بعد ایک فرض نماز ادا کر سکتی ہے، تو وہ معذور نہیں کہلائے گی۔ اس صورت میں لیکوریا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جائے گا، لہٰذا طواف کے دوران رطوبت خارج ہونے پر وضو دوبارہ کرنا لازم ہوگا۔
نیز لیکوریا کی رطوبت نجس ہے، اس لیے اگر کپڑے پر لگ جائے تو کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔ البتہ اگر اتنا وقفہ مل جاتا ہو کہ کپڑا دھو کر نماز ادا کی جا سکے اور نماز کے دوران دوبارہ ناپاک نہ ہو، تو کپڑا دھونا واجب ہے۔ لیکن اگر حالت یہ ہو کہ کپڑا دھونے کے بعد نماز ادا کرنے سے پہلے یا نماز کے دوران دوبارہ ناپاک ہو جاتا ہو، تو ایسی صورت میں ہر بار دھونا واجب نہیں ہوگا، بلکہ معذور کے احکام کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 04, 2026
Related Questions
حائضہ عورت کے لۓ طوافِ وداع کا حکم
صحة غسل الجنابة
حكم الغسل عند الشك في خروج المني بعد الاحتلام
الاغتسال من الحيض يجزئ عن الجنابة
No kaffarah required
زکوٰۃ کے لیے 13 ماہ کا حساب لگانے کا حکم
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now