Question
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے ایک شخص ہے جس کو سلسلے بول کی بیماری ہے اب نماز میں حاضر ہو تو پیشاب نکل آتا ہے اب اسکے بارے میں کیا حکم ہے
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
اگر کسی شخص کو سلسلۂ بول اس حد تک ہو کہ اسے اتنا بھی وقفہ نہ ملے جس میں وہ وضو کر کے ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکے، تو وہ معذور شمار ہوگا۔
حکم (مختصر):
وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرے، پھر اس ایک وقت میں جتنی چاہے نمازیں (فرض، سنت، نفل) اور تلاوت کر سکتا ہے، اگرچہ دورانِ نماز قطرے آتے رہیں۔ جیسے ہی وقت ختم ہوگا، وضو بھی ختم ہو جائے گا، اور اگلے وقت میں نیا وضو کرنا ہوگا۔
کپڑوں کا حکم:
اگر قطرے مسلسل اس طرح آتے ہوں کہ دھونے کے بعد بھی نماز کے دوران دوبارہ لگ جاتے ہیں اور رکنے کا موقع نہیں ملتا، تو انہیں دھونا واجب نہیں، چاہے مقدار زیادہ ہو جائے۔
البتہ اگر غالب گمان ہو کہ دھونے کے بعد نماز کے دوران قطرے نہیں آئیں گے، تو پھر دھونا واجب ہوگا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
April 15, 2026
Related Questions
Tahajjud without sleeping?
Cleaning injection blood: Is water necessary?
Ghusl without ejaculation?
Witr mistake & salam doubt — Is prayer valid?
Masah waived due to injury
Ignoring waswas (Doubts) about purity in daily life