طوافِ وداع کے دوران وضو ٹوٹنے کا صرف شک ہو تو کیا طواف درست ہوگا؟
Question
اگر کسی شخص کو طوافِ وداع کے دوران چھٹے چکر میں یہ شک ہو جائے کہ شاید اس سے گیس خارج ہوئی ہے، لیکن اسے غالب گمان یہی ہو کہ گیس خارج نہیں ہوئی، اور وہ اس اصول پر عمل کرتے ہوئے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا" طواف جاری رکھے اور چھٹا اور ساتواں چکر مکمل کر لے، تو کیا اس کا طوافِ وداع درست ہو جائے گا؟ مزید یہ کہ اس پر کسی قسم کا دم یا صدقہ لازم ہوگا یا نہیں؟
Islamic Ruling & Answer
اگر طوافِ وداع کے چھٹے چکر میں صرف شک پیدا ہوا کہ شاید گیس خارج ہوئی ہے، جبکہ غالب گمان یہی تھا کہ گیس خارج نہیں ہوئی، اور کوئی یقینی علامت (آواز، بو یا پختہ یقین) بھی موجود نہیں تھی، تو ایسی صورت میں شرعاً اصل طہارت ہی کا اعتبار کیا جائے گا؛ کیونکہ فقہی قاعدہ ہے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"۔
لہٰذا اگر واقعی معاملہ محض شک کا تھا اور حدث (وضو ٹوٹنے) کا یقین حاصل نہیں ہوا تھا، تو وہ شخص اپنے آپ کو باوضو شمار کرے گا، اور چھٹا اور ساتواں چکر مکمل کرنا درست تھا۔ اس صورت میں طوافِ وداع صحیح ادا ہو گیا، اسے طواف دہرانے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی اس پر دم یا صدقہ لازم ہوگا۔
البتہ اگر بعد میں یقین ہو جائے کہ چھٹے چکر سے پہلے ہی وضو ٹوٹ چکا تھا، تو پھر طوافِ وداع کے احکام الگ ہوں گے اور اس کی تفصیل اس یقین کے وقت اور حالت کے مطابق دیکھی جائے گی۔ لیکن محض شک اور غالب گمانِ عدمِ حدث کی صورت میں طواف درست ہے اور کوئی فدیہ لازم نہیں۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 04, 2026 · Updated June 26, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now