AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Friday, 05 June 2026 Al Juma'a, 19 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ "The best prayer after obligatory ones is night prayer." — Muslim
Prayers & Duties | Jun 04, 2026 | 1 min read

طوافِ وداع میں وضو ٹوٹنے کے شک کا حکم

Question

اگر کسی شخص کو طوافِ وداع کے دوران چھٹے چکر میں یہ شک ہو جائے کہ شاید اس سے گیس خارج ہوئی ہے، لیکن اسے غالب گمان یہی ہو کہ گیس خارج نہیں ہوئی، اور وہ اس اصول پر عمل کرتے ہوئے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا" طواف جاری رکھے اور چھٹا اور ساتواں چکر مکمل کر لے، تو کیا اس کا طوافِ وداع درست ہو جائے گا؟ مزید یہ کہ اس پر کسی قسم کا دم یا صدقہ لازم ہوگا یا نہیں؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر طوافِ وداع کے چھٹے چکر میں صرف شک پیدا ہوا کہ شاید گیس خارج ہوئی ہے، جبکہ غالب گمان یہی تھا کہ گیس خارج نہیں ہوئی، اور کوئی یقینی علامت (آواز، بو یا پختہ یقین) بھی موجود نہیں تھی، تو ایسی صورت میں شرعاً اصل طہارت ہی کا اعتبار کیا جائے گا؛ کیونکہ فقہی قاعدہ ہے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"۔

لہٰذا اگر واقعی معاملہ محض شک کا تھا اور حدث (وضو ٹوٹنے) کا یقین حاصل نہیں ہوا تھا، تو وہ شخص اپنے آپ کو باوضو شمار کرے گا، اور چھٹا اور ساتواں چکر مکمل کرنا درست تھا۔ اس صورت میں طوافِ وداع صحیح ادا ہو گیا، اسے طواف دہرانے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی اس پر دم یا صدقہ لازم ہوگا۔

البتہ اگر بعد میں یقین ہو جائے کہ چھٹے چکر سے پہلے ہی وضو ٹوٹ چکا تھا، تو پھر طوافِ وداع کے احکام الگ ہوں گے اور اس کی تفصیل اس یقین کے وقت اور حالت کے مطابق دیکھی جائے گی۔ لیکن محض شک اور غالب گمانِ عدمِ حدث کی صورت میں طواف درست ہے اور کوئی فدیہ لازم نہیں۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

June 04, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute