مسجد کے چندے اور محتاجوں میں ترجیح کا مسئلہ
Question
اسلام علیکم ، میرا سوال یہ ہے کہ، قرآن میں اللہ تعالی نے ہمارے مال کو خرچ کرنے کی حوالےسےحکم دیا ہیں ک ہں اپنا مال زل قربا یتامیٰ مساکین اور مسافر اور گردن چھڑانے میں خرچ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی، لیکن میرے دیکھنے میں یہ آرہا ہے آج کل کہ مسجدوں میں جو مساکین یتامیٰ مسافر وغیرہ تو مسجدوں کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں، اور مسجد مدرسہ وغیرہ کا چندہ جمع کرنے کی لیے آئے ہوئے حضرات مسجد میں اعلان بھی کرواتے ہیں اور چندہ جمع بھی کرلیتے ہیں، لوگ انکو چندہ دیں دیتے ہے تعالی ثواب انکو ملتا رہیگا وغیرہ، اور بڑھ چہرہ کرنے چندہ دیتے ہیں، وہی دوسری طرف بہتا جو محتاج مسکین یتیم وغیرہ بیٹھے ہوتے، انکو 5 روپیہ 10 روپیہ دیے جاتے ہیں اور وہ بھی بہُت کام پیما نے پر، ،تو میرا سوال یہ ہے کہ، ہمارے مال کا دونوں میں سے کون زیادہ حقدار ہے، مسجد کے اندر چندہ جمع کرنے والے لوگ، یہ باہر بیٹھے ہوتے لوگ جنکے حوالے سے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں حکم فرمایا ہے، اس بات پر بھی روشنی ڈالیے کی ، جہاں ہر محلے میں مسجد تعمیر ہورہی، نمازِ کام ہورہے، مسجدوں میں اچھے بھلے ٹائلز یہ جائے نمازِ تید کر new لگائے جارہے، وہی دوسری اور جب محتاج وغیرہ کو دینے کی باری آتی ہے تو ہماری ہیب سے اٹھانی ایک روپیہ باہر آتا ہے، مجھے شک اس وجہ سے ہوا کے، شیطان آن محتاج کو زیادہ پیسے دینے سے روکنے لگتا ہے، قصہ مختصر ، اس حوالے سے قرآن حدیث بتائیں
Islamic Ruling & Answer
Verifiedوعلیکم السلام
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کے کئی مصارف بیان فرمائے ہیں، جیسے رشتہ دار، یتیم، مسکین اور مسافر۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنا مال اللہ کی محبت میں رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرے اور غلاموں کو آزاد کرانے میں لگائے۔”
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجت مند لوگوں (مساکین، یتامیٰ وغیرہ) کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی اور اہم صدقہ ہے۔ نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ مسکین کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔
البتہ مسجد یا مدرسہ کے لیے چندہ دینا بھی جائز اور باعثِ ثواب ہے کیونکہ یہ دین کی خدمت اور صدقۂ جاریہ میں شامل ہے۔ لیکن اگر ایک طرف واقعی محتاج انسان ہو اور دوسری طرف مسجد کی تزئین و آرائش یا اضافی کام ہوں، تو ایسی صورت میں ضرورت مند انسان کی مدد کو زیادہ اہم سمجھا گیا ہے۔
اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مسلمان دونوں جگہ توازن رکھے:
حقیقی مساکین، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کو ترجیح دے۔
اور اپنی استطاعت کے مطابق مسجد و دینی کاموں میں بھی حصہ لیتا رہے۔
اصل معیار اخلاص اور ضرورت کی پہچان ہے، اور محتاج کی مدد کرنا اسلام میں بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
March 11, 2026
Related Questions
Brown Discharge During Menses
Multiple Pours, One Wash in Wudu?
Eating by Mistake After Fajr: Is the Fast Valid?
Fasting Without Ghusl After Menstruation
Prayers After Minor Bleeding
Unaware Prayers During Menstruation