Question
اگر لڑکی کنواری ہو اور دونوں میاں بیوی ہوں اور کچھ وقت کے لیے ہمبستری کی کوشش کریں مگر کامیاب نہ ہو سکیں، پھر اگر مرد کو شک ہو کہ دخول ہوا ہے یا نہیں لیکن عورت یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ نہیں ہوا، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا غسل کرنا لازم ہوگا؟ نوٹ کریں کہ دونوں کا انزال بھی نہیں ہوا تھا۔
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر شوہر کو دخول (شرمگاہ میں عضو کا داخل ہونا) کا شک ہو لیکن بیوی یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ دخول نہیں ہوا، تو بیوی کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ جب تک دخول کا یقین نہ ہو، اس وقت تک محض شک کی بنیاد پر غسل واجب نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے:
اگر دخول نہیں ہوا، تو نہ مرد پر غسل واجب ہے اور نہ ہی عورت پر (خواہ انزال نہ بھی ہوا ہو) ۔
اگر دخول کا یقین ہو جائے، تو انزال نہ ہونے کے باوجود میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے ۔
لہٰذا، جب تک آپ کو دخول کا یقین نہ ہو جائے، غسل لازم نہیں۔ محض شک کی وجہ سے احتیاطاً غسل کر لینا بہتر ہے، مگر شرعی طور پر وہ واجب نہیں ہے ۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
April 30, 2026
Related Questions
Performing umrah after passing the meeqat without ihram
Can taxes be counted as zakat?
Ruling on prayer with a tattoo
Can Someone Complete a Woman's Nafl Tawaf on Her Behalf if Her Menses Begins?
Using a tissue to wipe tears during prayer
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now