AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Saturday, 02 May 2026 Al Sabt, 15 Dhū al-Qaʿdah 1447 AH
Hadith of the Day: الدِّينُ النَّصِيحَةُ "Religion is sincere advice." — Muslim
Prayers & Duties | Apr 30, 2026 | 1 min read

شک کی بنا پر دخول اور غسل کا شرعی حکم

Question

اگر لڑکی کنواری ہو اور دونوں میاں بیوی ہوں اور کچھ وقت کے لیے ہمبستری کی کوشش کریں مگر کامیاب نہ ہو سکیں، پھر اگر مرد کو شک ہو کہ دخول ہوا ہے یا نہیں لیکن عورت یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ نہیں ہوا، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا غسل کرنا لازم ہوگا؟ نوٹ کریں کہ دونوں کا انزال بھی نہیں ہوا تھا۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر شوہر کو دخول (شرمگاہ میں عضو کا داخل ہونا) کا شک ہو لیکن بیوی یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ دخول نہیں ہوا، تو بیوی کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ جب تک دخول کا یقین نہ ہو، اس وقت تک محض شک کی بنیاد پر غسل واجب نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے:
اگر دخول نہیں ہوا، تو نہ مرد پر غسل واجب ہے اور نہ ہی عورت پر (خواہ انزال نہ بھی ہوا ہو) ۔
اگر دخول کا یقین ہو جائے، تو انزال نہ ہونے کے باوجود میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے ۔
لہٰذا، جب تک آپ کو دخول کا یقین نہ ہو جائے، غسل لازم نہیں۔ محض شک کی وجہ سے احتیاطاً غسل کر لینا بہتر ہے، مگر شرعی طور پر وہ واجب نہیں ہے ۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 30, 2026