AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Online Consultation Business Consultation Questions Category Tree Categories Duas Islamic Names Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact Help

Programs

Invest in Us 🌟 Arabic Program Marriage Counselling SOON Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Monday, 14 September 2026 Monday, 3 Rab al-thn 1448 AH
Hadith of the Day: الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الأُمَّهَاتِ "Paradise lies under mothers' feet." — Nasai (Ḥasan)
Prayers & Duties | Apr 30, 2026 | 1 min read

اگر دخول ہونے میں شک ہو اور انزال بھی نہ ہوا ہو تو کیا غسل فرض ہوگا؟

Question

اگر لڑکی کنواری ہو اور دونوں میاں بیوی ہوں اور کچھ وقت کے لیے ہمبستری کی کوشش کریں مگر کامیاب نہ ہو سکیں، پھر اگر مرد کو شک ہو کہ دخول ہوا ہے یا نہیں لیکن عورت یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ نہیں ہوا، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا غسل کرنا لازم ہوگا؟ نوٹ کریں کہ دونوں کا انزال بھی نہیں ہوا تھا۔

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر شوہر کو دخول (شرمگاہ میں عضو کا داخل ہونا) کا شک ہو لیکن بیوی یقین کے ساتھ کہہ رہی ہو کہ دخول نہیں ہوا، تو بیوی کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ جب تک دخول کا یقین نہ ہو، اس وقت تک محض شک کی بنیاد پر غسل واجب نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے:
اگر دخول نہیں ہوا، تو نہ مرد پر غسل واجب ہے اور نہ ہی عورت پر (خواہ انزال نہ بھی ہوا ہو) ۔
اگر دخول کا یقین ہو جائے، تو انزال نہ ہونے کے باوجود میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے ۔
لہٰذا، جب تک آپ کو دخول کا یقین نہ ہو جائے، غسل لازم نہیں۔ محض شک کی وجہ سے احتیاطاً غسل کر لینا بہتر ہے، مگر شرعی طور پر وہ واجب نہیں ہے ۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 01, 2026

Researched & verified under our editorial & answer-review policy.

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute