AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Thursday, 19 March 2026 Al Khamees, 30 Ramaḍān 1447 AH
Hadith of the Day: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا "Whoever cheats is not from us." — Muslim
Prayers & Duties | Mar 18, 2026 | 1 min read

مشت زنی سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

Question

السلام علیکم! مفتی صاحب میرا سوال ہے کہ روزہ کی حالت میں مشت زنی کر لی ۔ اس روزہ کی قضا مجھ پر لازم آ گئی ، چند دن بعد یہی فعل مجھ سے دوبارہ سرزد ہو گیا ۔ اب کیا ایک اور قضا مجھ پر آئے گی یعنی اب دو قضا ہوں گی یا ایک ہی قضا ہو گی یا پھر چونکہ ایک بار مشت زنی کرنے سے جنایت ناقص رہی پر دوسری بار کرنے سے جنایت کامل ہو گئی ( QTV کے ایک پروگرام " احکامِ شریعت" میں مفتی اکمل صاحب نے اس جنایت ناقص اور کامل کا ذکر کیا تھا ) ۔ تو اب کیا معاملہ قضا سے کفارہ تک جائے گا ؟ اگر معاملہ قضا سے کفارہ تک جاتا ہے تو اسی طرح تیسری بار یا اس سے زیادہ بار مشت زنی کرنے پر ہر دو کے بعد ایک کفارہ لازم آئے گا کیا؟ نیز اب چونکہ روزہ فاسد ہو گیا تو کیا ہر وہ عمل جس سے روزہ ٹوٹنے کا حکم ہے کیا وہ کیا جا سکتا ہے بالخصوص بیوی سے تعلق قائم کیا جا سکتا اور کھانا پینا وغیرہ یا احترامِ روزہ کی خاطر ان چیزوں کے لئے افطاری تک انتظار کرنا ہی پڑے گا ؟ والسلام

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جی، آپ کے سوال کا مختصر اور جوابیہ انداز میں جواب یہ ہے:

اگر روزے کی حالت میں مشت زنی کر لی جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

اب اگر یہ عمل چند دن بعد دوبارہ ہو گیا، تو ہر دن کے بدلے الگ قضا لازم ہوگی؛ یعنی ایک بار کیا تو ایک قضا، دو بار کیا تو دو قضا۔ اس صورت میں “جنایت ناقص اور کامل” کی بنیاد پر کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ مشت زنی سے کفارہ نہیں آتا، بلکہ کفارہ صرف اس وقت لازم ہوتا ہے جب روزے کی حالت میں بیوی سے تعلق (جماع) کیا جائے۔

مزید یہ کہ جب روزہ فاسد ہو جائے، تب بھی دن بھر کھانے پینے اور بیوی سے تعلق قائم کرنے سے بچنا ضروری ہے اور افطار تک روزے کا احترام کرنا لازم ہے۔

واللہ اعلم

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

March 18, 2026