AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Wednesday, 22 April 2026 Al Arba'a, 5 Dhū al-Qaʿdah 1447 AH
Hadith of the Day: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ "Two blessings many people waste: health and free time." — Bukhari
Miscellaneous | Apr 21, 2026 | 1 min read

متعین نفع کا حکم

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں میں نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپے دیا اور اس سے کہا مجھے سالانہ نفع کتنا دے سکتے ہیں اور یہ جو میں نےنفع کی بات ہے اس نے خود متعین کیا ہے دینے والے نے کوئی تعین نہیں کیا. کیا یہ پیسہ لینا درست ہے

Islamic Ruling & Answer

Verified

فقہ حنفی کے اصولوں کے مطابق اس طرح طے شدہ یا متعین نفع لینا جائز نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاملہ یہ ہو کہ اصل سرمایہ (ایک لاکھ روپے) کے بدلے سالانہ یا کسی مقررہ رقم کے طور پر نفع ملے، چاہے نفع کی مقدار دینے والے نے کہی ہو یا لینے والے نے خود مقرر کر دی ہو، تو یہ دراصل قرض پر نفع بن جاتا ہے، اور یہ شریعت میں ربا (سود) کے حکم میں آتا ہے، جو حرام ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

April 21, 2026