Question
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں میں نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپے دیا اور اس سے کہا مجھے سالانہ نفع کتنا دے سکتے ہیں اور یہ جو میں نےنفع کی بات ہے اس نے خود متعین کیا ہے دینے والے نے کوئی تعین نہیں کیا. کیا یہ پیسہ لینا درست ہے
Islamic Ruling & Answer
Verifiedفقہ حنفی کے اصولوں کے مطابق اس طرح طے شدہ یا متعین نفع لینا جائز نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاملہ یہ ہو کہ اصل سرمایہ (ایک لاکھ روپے) کے بدلے سالانہ یا کسی مقررہ رقم کے طور پر نفع ملے، چاہے نفع کی مقدار دینے والے نے کہی ہو یا لینے والے نے خود مقرر کر دی ہو، تو یہ دراصل قرض پر نفع بن جاتا ہے، اور یہ شریعت میں ربا (سود) کے حکم میں آتا ہے، جو حرام ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
April 21, 2026
Related Questions
Using voice in puzzle videos
حكم أخذ أجرة زائدة من الراكب دون علمه
Can a girl be named Inaya or Inaya-tur-rahman?
Can a boy be named muhammad ismail ur rahman?
Is it permissible to keep the name umais or change it?
Oral intimacy between spouses
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now