Question
السلام علیکم میرا نام واصف محمود ہے ۔میں اومان مسقط میں رہتا ہوں ۔میرا ایک سوال ہے ۔اگر کوئی شخص اپنی رقم پاکستان بھیجنے کیلئے مجھے دیتا ہے ۔میں گورنمنٹ ریٹ کے مطابق اس کے دیے گے اکاؤنٹ میں اپنے پاکستانی اکاؤنٹ سے ڈال دیتا ہوں ۔بعد میں اگر وہ رقم میں ہنڈی کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں ڈلواتا ہوں جسکا ریٹ گونمنٹ ریٹ سے زیادہ ہو گا ۔تو کیا وہ رقم جو بچے گی میرے لیے حلال ہے مثلاً ایک ادمی مجھے100 ریال دیا 722 روپے گورنمنٹ کے ریٹ سے میں نے اسکے اکاؤنٹ میں ڈالے بھد میں ہنڈی سے مجھے ریٹ ملا 735 روپے ریال جو 100 ریال کا 73500 بنا جو 1300 روپے مجھے بچت ہوئی اسکے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے رہنمائی فرماے
Islamic Ruling & Answer
وعلیکم السلام
آپ کی بیان کردہ صورت میں ہنڈی کے ذریعے گورنمنٹ ریٹ سے زیادہ ریٹ حاصل ہونے کی وجہ سے جو اضافی رقم (مثلاً 1300 روپے) بچتی ہے، اسے اپنے لیے رکھنا جائز نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہنڈی کا کاروبار متعلقہ ممالک کے قوانین کے مطابق ممنوع ہے، اور شرعاً بھی ہنڈی کرنے والے پر لازم ہے کہ جتنی رقم اس کے سپرد کی جائے، اتنی ہی رقم متعلقہ شخص تک پہنچائے، اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی نہ کرے۔ البتہ اگر پہلے سے الگ سے سروس فیس طے کر لی گئی ہو تو صرف وہی لینا جائز ہے۔
لہٰذا ریٹ کے فرق کی وجہ سے حاصل ہونے والی اضافی رقم کو اپنے لیے رکھنا جائز نہیں، بلکہ اگر معاوضہ لینا ہو تو وہ پہلے سے واضح طور پر طے شدہ فیس کی صورت میں ہونا چاہیے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
August 04, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Islamic ruling on interest-based loans
Is Print-on-Demand Clothing Business Permissible in Islam?
Can Riba (Interest) Be Taken to Donate to Charity?
Are Auction Sales Permissible (Halal) in Islam?
Islamic guidelines for women in business
Age restrictions and halal earnings
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now