AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Saturday, 30 May 2026 Al Sabt, 13 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ "The closest a servant is to Allah is in prostration." — Muslim
Prayers & Duties | May 30, 2026 | 1 min read

طواف کے بعد وضو ٹوٹنے کے شک کا حکم

Question

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. طوافِ زیارت کرتے وقت مجھے اپنے وضو کے صحیح ہونے کا یقین تھا۔ البتہ طواف مکمل کرنے کے بعد جب دو رکعت واجب الطواف نماز ادا کر رہی تھی تو اس دوران صرف یہ شک پیدا ہوا کہ شاید استنجا خراب ہو گیا ہو یا کوئی نجاست نکل گئی ہو، لیکن اس بات کا کوئی یقین نہیں تھا۔ اس صورت میں کیا وہ دو رکعت نماز درست ہو گئی؟ نیز اگر بعد میں احتیاطاً وہی دو رکعت دوبارہ منیٰ کے کیمپ میں ادا کر لی گئی ہو تو کیا طوافِ زیارت اور حج درست شمار ہوں گے؟ اور کیا اس صورت میں کوئی دم لازم آئے گا یا نہیں؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

جب تک وضو ٹوٹ جانے کا  یقین یا ظن غالب نہ ہوجائے اس وقت تک وضو برقرار رہتا ہے؛  لہذا   صورتِ مسئولہ میں آپ کا طواف ہوگیا  دم لازم نہیں ہوگا۔

 

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

May 30, 2026