AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Wednesday, 15 July 2026 Wednesday, 1 afar 1448 AH
Hadith of the Day: لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ "He who does not thank people does not thank Allah." — Tirmidhi (Ṣaḥīḥ)
Prayers & Duties | May 30, 2026 | 1 min read

اگر طوافِ زیارت کے بعد وضو ٹوٹنے کا صرف شک ہو تو کیا نماز اور طواف درست ہیں؟

Question

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. طوافِ زیارت کرتے وقت مجھے اپنے وضو کے صحیح ہونے کا یقین تھا۔ البتہ طواف مکمل کرنے کے بعد جب دو رکعت واجب الطواف نماز ادا کر رہی تھی تو اس دوران صرف یہ شک پیدا ہوا کہ شاید استنجا خراب ہو گیا ہو یا کوئی نجاست نکل گئی ہو، لیکن اس بات کا کوئی یقین نہیں تھا۔ اس صورت میں کیا وہ دو رکعت نماز درست ہو گئی؟ نیز اگر بعد میں احتیاطاً وہی دو رکعت دوبارہ منیٰ کے کیمپ میں ادا کر لی گئی ہو تو کیا طوافِ زیارت اور حج درست شمار ہوں گے؟ اور کیا اس صورت میں کوئی دم لازم آئے گا یا نہیں؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

جب تک وضو ٹوٹ جانے کا  یقین یا ظن غالب نہ ہوجائے اس وقت تک وضو برقرار رہتا ہے؛  لہذا   صورتِ مسئولہ میں آپ کا طواف ہوگیا  دم لازم نہیں ہوگا۔

 

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

May 30, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute