اگر طوافِ زیارت کے بعد وضو ٹوٹنے کا صرف شک ہو تو کیا نماز اور طواف درست ہیں؟
Question
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. طوافِ زیارت کرتے وقت مجھے اپنے وضو کے صحیح ہونے کا یقین تھا۔ البتہ طواف مکمل کرنے کے بعد جب دو رکعت واجب الطواف نماز ادا کر رہی تھی تو اس دوران صرف یہ شک پیدا ہوا کہ شاید استنجا خراب ہو گیا ہو یا کوئی نجاست نکل گئی ہو، لیکن اس بات کا کوئی یقین نہیں تھا۔ اس صورت میں کیا وہ دو رکعت نماز درست ہو گئی؟ نیز اگر بعد میں احتیاطاً وہی دو رکعت دوبارہ منیٰ کے کیمپ میں ادا کر لی گئی ہو تو کیا طوافِ زیارت اور حج درست شمار ہوں گے؟ اور کیا اس صورت میں کوئی دم لازم آئے گا یا نہیں؟
Islamic Ruling & Answer
وعلیکم السلام
جب تک وضو ٹوٹ جانے کا یقین یا ظن غالب نہ ہوجائے اس وقت تک وضو برقرار رہتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کا طواف ہوگیا دم لازم نہیں ہوگا۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 30, 2026 · Updated June 26, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now