طوافِ زیارت کے بعد معلوم ہو کہ حیض شروع ہو چکا تھا تو کیا حکم ہے؟
Question
“اگر کسی عورت کو چیک کرنے پر یہ سمجھ نہ آئے کہ حیض شروع ہوا ہے یا نہیں، بلکہ صرف شک ہو اور یقین نہ ہو، اور وہ ‘یقین شک سے زائل نہیں ہوتا’ کے اصول پر یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ پاک ہے، طوافِ زیارت کر لے، پھر طوافِ زیارت کے بعد دوبارہ چیک کرنے پر یہ بات کنفرم ہو جائے کہ حیض شروع ہو چکے ہیں، تو اس صورت میں کیا اس کا طوافِ زیارت ادا ہو جائے گا یا دوبارہ کرنا پڑے گا؟ اور کیا اس پر دم بھی لازم آئے گا یا نہیں؟ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔”
Islamic Ruling & Answer
اگر کسی عورت کو چیک کرنے پر یہ سمجھ نہ آئے کہ حیض شروع ہوا ہے یا نہیں، بلکہ صرف شک ہو اور یقین نہ ہو، اور وہ '''یقین شک سے زائل نہیں ہوتا''' کے اصول پر یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ پاک ہے، طوافِ زیارت کر لے، پھر طوافِ زیارت کے بعد دوبارہ چیک کرنے پر یہ بات کنفرم ہو جائے کہ حیض شروع ہو چکے ہیں، تو اس صورت میں اس کا طوافِ زیارت ادا نہیں ہوگا اور اسے دوبارہ کرنا ضروری ہوگا۔ فقہی اصول ہے کہ پہلے پاکی پر یقین تھا، لیکن بعد میں یقیناً ثابت ہو گیا کہ حیض شروع ہو چکا تھا، اور حالِ حیض میں طواف کی شرعی شرط (پاکی) پوری نہیں ہوئی تھی، اس لیے طواف باطل ہو گیا ۔
اسی بنا پر اس پر دم (قربانی) بھی لازم آئے گی، کیونکہ حالتِ حیض میں طواف کرنا حرام ہے۔ اگر یہ حج کا طوافِ زیارت ہے تو ایک بدنہ (اونٹ، گائے یا بھینس) کا دم لازم ہوگا، اور اگر عمرہ کا طواف ہے تو ایک بکری کا دم لازم ہوگا ۔ تاہم، اگر قربانی سے پہلے خون بند ہو جائے، عورت پاک ہو جائے اور طواف دہرانے کا موقع مل جائے، تو دم ساقط ہو جائے گا اور طوافِ زیارت دہرانے سے ادا ہو جائے گا
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 29, 2026 · Updated June 28, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Qasr prayer when visiting a second house
How to pay missed qurbani
الشك في عدد ركعات الصلاة
حکمِ فاقدُ الطَّہُورَین
Ruling on missed ramadan fasts due to menstruation
حیض کے اندیشے میں طوافِ زیارت کا حکم
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now