اگر طوافِ زیارت کے دوران اونگھ آ جائے تو کیا طواف درست ہوگا؟
Question
السلام علیکم! اگر کسی کو طوافِ زیارت کرتے ہوئے چلتے چلتے تھوڑی سی نیند آ جائے یا چلتے ہوئے آنکھ لگ جائے، اور اسی حالت میں وہ کچھ چکر لگا لے، تو کیا ایسی صورت میں طوافِ زیارت ہو جائے گا یا دوبارہ کرنا پڑے گا؟ کیا کوئی دم بھی لازم آئے گا یا نہیں؟
Islamic Ruling & Answer
وعلیکم السلام
اگر طوافِ زیارت کے دوران چلتے چلتے محض اونگھ آ گئی ہو یا ہلکی سی آنکھ لگ گئی ہو، جبکہ آدمی اپنے قدموں پر چل رہا ہو اور گرنے یا جسم کے ڈھیلا ہو جانے کی کیفیت نہ ہوئی ہو، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا طواف بھی صحیح رہے گا اور نہ اس کے اعادے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کوئی دم لازم آئے گا۔ البتہ اگر ایسی گہری نیند آ گئی ہو جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو اس حالت میں کیے گئے طواف کے چکر معتبر نہیں ہوں گے، لہٰذا وضو کرکے طوافِ زیارت کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا، ورنہ دم لازم آئے گا۔ اصل حکم اس بات پر موقوف ہے کہ نیند ایسی تھی جس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
May 31, 2026 · Updated June 27, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now