AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Contribute Ask a Question
Login Register

Menu

Questions Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Sunday, 31 May 2026 Al Ahad, 14 Dhū al-Ḥijjah 1447 AH
Hadith of the Day: الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ "The one who guides to good is like the doer." — Tirmidhi (Ṣaḥīḥ)
Prayers & Duties | May 31, 2026 | 1 min read

طوافِ زیارت میں اونگھ آنے کا حکم

Question

السلام علیکم! اگر کسی کو طوافِ زیارت کرتے ہوئے چلتے چلتے تھوڑی سی نیند آ جائے یا چلتے ہوئے آنکھ لگ جائے، اور اسی حالت میں وہ کچھ چکر لگا لے، تو کیا ایسی صورت میں طوافِ زیارت ہو جائے گا یا دوبارہ کرنا پڑے گا؟ کیا کوئی دم بھی لازم آئے گا یا نہیں؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

وعلیکم السلام 

اگر طوافِ زیارت کے دوران چلتے چلتے محض اونگھ آ گئی ہو یا ہلکی سی آنکھ لگ گئی ہو، جبکہ آدمی اپنے قدموں پر چل رہا ہو اور گرنے یا جسم کے ڈھیلا ہو جانے کی کیفیت نہ ہوئی ہو، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا طواف بھی صحیح رہے گا اور نہ اس کے اعادے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کوئی دم لازم آئے گا۔ البتہ اگر ایسی گہری نیند آ گئی ہو جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو اس حالت میں کیے گئے طواف کے چکر معتبر نہیں ہوں گے، لہٰذا وضو کرکے طوافِ زیارت کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا، ورنہ دم لازم آئے گا۔ اصل حکم اس بات پر موقوف ہے کہ نیند ایسی تھی جس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

May 31, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute