زکوٰۃ کے لیے 13 ماہ کا حساب لگانے کا حکم
Question
"میرا سوال یہ ہے کہ مجھے جون 2024 میں کچھ رقم ملی اور میں نے اگلے ماہ یعنی جولائی 2024 میں اسے ایک کاروبار میں سرمایہ کاری کے طور پر لگا دیا۔ جس کاروبار میں میں پیسے لگائے ہیں، وہ اپنا حساب کتاب 30 جون کو کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پہلا سال یکم جون 2024 سے لے کر 30 جون 2025 تک بن جاتا ہے، جو کہ کل 13 مہینے بنتے ہیں۔" "کیا میں پہلے سال 13 ماہ کی زکوۃ ادا کر سکتا ہوں تاکہ ائندہ آنے والے سالوں میں میرا حساب یکم جولائی سے 30 جون تک سیدھا ہو جائے؟ عام طور پر زکوۃ کی شرح ایک سال کے لیے ڈھائی فیصد ہوتی ہے، اور اگر ہم 13 ماہ کا حساب لگائیں تو یہ تقریباً 2.71 فیصد بنتی ہے۔ کیا اس طرح 13 ماہ کی زکوۃ ادا کرنا جائز ہے تاکہ میرے آنے والے تمام سالوں کا حساب یکم جولائی سے 30 جون تک کی ایک ترتیب میں آ سکے؟" "نیز، اگر ہمیں اسلامی مہینوں کا صحیح علم نہ ہو تو کیا ہم زکوۃ کی ادائیگی کے لیے انگریزی مہینوں کو فالو کر سکتے ہیں؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔"
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر آپ کی زکوٰۃ کی تاریخ قمری اعتبار سے مکمل سال گزرنے پر آ گئی ہو تو اسی وقت زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے، اسے صرف کاروباری حسابات کو یکساں کرنے کے لیے ایک ماہ مؤخر کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر آپ سہولت کی خاطر 13 ماہ کا حساب لگا کر اضافی زکوٰۃ (تقریباً 2.71٪) ادا کر دیں تو یہ جائز ہے، اور زائد ادا کی گئی مقدار نفلی صدقہ شمار ہوگی۔
نیز زکوٰۃ کا اصل اعتبار قمری (اسلامی) سال کا ہے، نہ کہ انگریزی سال کا۔ آج کل اسلامی تاریخ معلوم کرنے کے متعدد آسان ذرائع، کیلنڈرز، موبائل ایپس اور ویب سائٹس موجود ہیں، اس لیے حتی الامکان قمری مہینوں اور اپنی زکوٰۃ کی تاریخ کا علم حاصل کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق زکوٰۃ کا حساب رکھنا چاہیے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
June 01, 2026
Related Questions
الاغتسال من الحيض يجزئ عن الجنابة
No kaffarah required
حیض میں طوافِ زیارت کرنے پر دم ادا نہ کر سکنے کا حکم۔
غنودگی میں طوافِ زیارت اور بعد میں اعادہ کرنے کا حکم
الغسل من الحيض والجنابة معًا
Ruling on crossing the miqat without performing the farewell tawaf (Tawaf al-Wada‘)
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now