AskMuftiOnline

Welcome to AskMuftiOnline

Ask a Question Contribute
Login Register

Menu

Ask a Mufti Online Live Chat with a Mufti Questions Category Tree Categories Duas Zakat Calculator Fitra & Fidya

Resources

Blog Scholars About Us Contact

Programs

🌟 Arabic Program Become a Scholar Contribute

Language

Ask a Question
بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ Monday, 27 July 2026 Monday, 13 afar 1448 AH
Hadith of the Day: مَنْ صَمَتَ نَجَا "Whoever remains silent is saved." — Tirmidhi (Ḥasan)
Prayers & Duties | Jul 26, 2026 | 1 min read

حیض کے اندیشے میں طوافِ زیارت کا حکم

Question

ایامِ نحر میں اگر کسی عورت کو اندیشہ ہوکہ قربانی کے انتظار میں حیض شروع ہوجائگا،تو اس کےلیے افضل کیا ہے:قربانی سے پہلے طوافِ زیارت کرلے یا قربانی کاانتظار کرے،پھر حیض آجائے تو پاک ہونے کے بعدطواف کرے؟

Islamic Ruling & Answer

Verified

اگر کسی عورت کو ایامِ نحر میں یہ اندیشہ ہو کہ قربانی کے انتظار میں اسے حیض شروع ہوجائے گا، تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ قربانی سے پہلے طوافِ زیارت کرلے، کیونکہ طوافِ زیارت کو قربانی سے پہلے ادا کرنا جائز ہے، جبکہ حیض کی حالت میں طواف کرنا جائز نہیں۔ اگر وہ قربانی کا انتظار کرے اور اس دوران حیض شروع ہوجائے، تو پھر پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت ادا کرے گی۔

اس کی دلیل حضرت عائشہؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:

«افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري»

ترجمہ: “حاجی جو اعمال کرتے ہیں وہ سب کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرنا جب تک پاک نہ ہو جاؤ۔”

(صحیح البخاری: 305، صحیح مسلم: 1211)

لہٰذا جب حیض آنے کا اندیشہ ہو تو فرض طواف کو حیض سے پہلے ادا کرلینا بہتر اور زیادہ احتیاط کا تقاضا ہے۔

Answered by

Mufti Tosif Qasmi

July 26, 2026

Support the Work

Keep authentic Islamic guidance free and accessible for everyone.

Contribute Now
Contribute