Question
ایامِ نحر میں اگر کسی عورت کو اندیشہ ہوکہ قربانی کے انتظار میں حیض شروع ہوجائگا،تو اس کےلیے افضل کیا ہے:قربانی سے پہلے طوافِ زیارت کرلے یا قربانی کاانتظار کرے،پھر حیض آجائے تو پاک ہونے کے بعدطواف کرے؟
Islamic Ruling & Answer
Verifiedاگر کسی عورت کو ایامِ نحر میں یہ اندیشہ ہو کہ قربانی کے انتظار میں اسے حیض شروع ہوجائے گا، تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ قربانی سے پہلے طوافِ زیارت کرلے، کیونکہ طوافِ زیارت کو قربانی سے پہلے ادا کرنا جائز ہے، جبکہ حیض کی حالت میں طواف کرنا جائز نہیں۔ اگر وہ قربانی کا انتظار کرے اور اس دوران حیض شروع ہوجائے، تو پھر پاک ہونے کے بعد طوافِ زیارت ادا کرے گی۔
اس کی دلیل حضرت عائشہؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
«افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري»
ترجمہ: “حاجی جو اعمال کرتے ہیں وہ سب کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرنا جب تک پاک نہ ہو جاؤ۔”
(صحیح البخاری: 305، صحیح مسلم: 1211)
لہٰذا جب حیض آنے کا اندیشہ ہو تو فرض طواف کو حیض سے پہلے ادا کرلینا بہتر اور زیادہ احتیاط کا تقاضا ہے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
July 26, 2026
Related Questions
Can Parents Ask Their Indebted Son to Finance Their Hajj?
Mard aur aurat ke kafan mein farq
Ghusl and doubt after waking up
Can one be Muslim without making prayers?
Can a Muslim Skip Hajj Due to Disagreement With the Imam or Government?
من هو المسكين الذي يجوز إطعامه في الكفارة؟
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now