سجدے میں گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھنے کا حکم
Question
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہِ وبرکاتہ نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے اپنے کپڑوں کو سمیٹنا دونوں ہاتھوں سے جیسا کہ دونوں شلوار کو پکڑ کر اوپر کھینچنا تو کیا یہ عمل مکروہ تحریمی ہے اور اس سے نماز واجب الاعادہ ہوگی
Islamic Ruling & Answer
عملِ کثیر ‘‘ کی فقہاء نے تین تشریحات ذکر کی ہیں:
1: کوئی ایسا کام کرنا کہ دور سے دیکھنے والے کو غالب گمان ہونے لگے کہ یہ کام کرنے والا نماز نہیں پڑھ رہا، جس کام کی ایسی کیفیت نہ ہو وہ عمل قلیل ہے۔
2: جو کام عام طور پر دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے، مثلاً عمامہ باندھنا، ازار بند باندھنا وغیرہ، یہ تمام کام عملِ کثیر شمار ہوتے ہیں۔ اگر یہ کام ایک ہاتھ سے کرے تب بھی یہ عمل کثیر کہلائے گا۔ اور جو کام عام طور پر ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے وہ عملِ قلیل شمار ہوتا ہے، اگر یہ کام دو ہاتھوں سے کرے تب بھی عملِ قلیل ہی کہلائے گا۔
3: نماز کے کسی ایک ہی رکن میں تین مرتبہ حرکت کرنا، مثلاً تین مرتبہ خارش کرنا، یا تین مرتبہ ٹوپی سیدھی کرنا وغیرہ، یہ عمل کثیر ہے، ورنہ عمل قلیل ہے۔
ان میں راجح پہلی تفسیر ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو یہ غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا۔ بہرحال سجدے میں جاتے ہوئے یا اٹھتے وقت قمیص کو دونوں یا ایک ہاتھ سے صحیح کرنا عملِ کثیر نہیں ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، لیکن بلاضرورت عمل قلیل بھی نہیں کرنا چاہیے، مکروہ ہے۔ اور اگر قمیص ٹھیک کرنا ضروری ہو تو ایک ہاتھ سے ہی کرے، دو سے نہ کرے۔
Answered by
Mufti Tosif Qasmi
February 04, 2026 · Updated June 17, 2026
Researched & verified under our editorial & answer-review policy.
Related Questions
Ruling on missed ramadan fasts due to menstruation
حیض کے اندیشے میں طوافِ زیارت کا حکم
Can Parents Ask Their Indebted Son to Finance Their Hajj?
Mard aur aurat ke kafan mein farq
Ghusl and doubt after waking up
Can one be Muslim without making prayers?
Support AskMuftiOnline
Your contribution helps scholars answer more questions and keeps this platform free for everyone.
Contribute Now